سفیر لیلی-۱

علی اکبر ناطق

سفیر لیلی-۱

علی اکبر ناطق

MORE BYعلی اکبر ناطق

    سفیر لیلیٰ یہی کھنڈر ہیں جہاں سے آغاز داستاں ہے

    ذرا سا بیٹھو تو میں سناؤں

    فصیل قریہ کے سرخ پتھر اور ان پہ اژدر نشان برجیں گواہ قریہ کی عظمتوں کی

    چہار جانب نخیل طوبیٰ اور اس میں بہتے فراواں چشمے

    بلند پیڑوں کے ٹھنڈے سائے تھے شاخ زیتوں اسی جگہ تھی

    یہی ستوں تھے جو دیکھتے ہو پڑے ہیں مردہ گدھوں کے مانند

    اٹھائے رکھتے تھے ان کے شانے عظیم قصروں کی سنگیں سقفیں

    یہی وہ در ہیں سفیر لیلیٰ کہ جن کے تختے اڑا لیے ہیں دنوں کی آوارہ صرصروں نے

    یہیں سے گزری تھیں سرخ اونٹوں کی وہ قطاریں

    کہ ان کی پشتیں صنوبروں کے سفید پالان لے کے چلتیں

    اٹھائے پھرتیں جوان پریوں کی محملوں کو

    یہ صحن قریہ ہے ان جگہوں پر گھنی کجھوروں کی سبز شاخیں

    فلک سے تازہ پھلوں کے خوشے چرا کے بھرتی تھیں پہلوؤں میں

    سفید پانی کے سو کنویں یوں بھرے ہوئے تھے

    کہ چوڑی مشکوں کو ہاتھ بھر کی ہی رسیاں تھیں

    مضاف قریہ میں سبزہ گاہیں اور ان میں چرتی تھیں فربہ بھیڑیں

    شمال قریہ میں نیل گائیں منار مسجد سے دیکھتے تھے

    پرے ہزاروں کبوتروں کے فصیل قریہ سے گنبدوں تک

    پروں کو زوروں سے پھڑپھڑاتے تھے اور صحنوں میں دوڑتے تھے

    یہیں تھا سب کچھ سفیر لیلیٰ

    اسی جگہ پر جہاں ببولوں کے خار پھرتے ہیں چوہیوں کی سواریوں پر

    جہاں پرندوں کو ہول آتے ہیں راکھ اڑتی ہے ہڈیوں کی

    یہی وہ وحشت سرا ہے جس میں دلوں کی آنکھیں لرز رہی ہیں

    سفیر لیلیٰ تم آج آئے ہو تو بتاؤں

    ترے مسافر یہاں سے نکلے افق کے پربت سے اس طرف کو

    وہ ایسے نکلے کہ پھر نہ آئے

    ہزار کہنہ دعائیں گرچہ بزرگ ہونٹوں سے اٹھ کے بام فلک پہ پہنچیں

    مگر نہ آئے

    اور اب یہاں پر نہ کوئی موسم نہ بادلوں کے شفیق سائے

    نہ سورجوں کی سفید دھوپیں

    فقط سزائیں ہیں اونگھ بھرتی کریہہ چہروں کی دیویاں ہیں

    سفیر لیلیٰ

    یہاں جو دن ہیں وہ دن نہیں ہیں

    یہاں کی راتیں ہیں بے ستارہ

    سحر میں کوئی نمی نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے