سنگ آباد کی ایک دکاں

شاذ تمکنت

سنگ آباد کی ایک دکاں

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    سنگ آباد میں کیا میں نے دکاں کھولی ہے

    لوگ حیرت زدہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں

    اک خریدار نے پوچھا کہ سبب کیا تو زباں کھولی ہے

    یہ ہے قرنوں سے کھڑا سوچ کی آواز کا بت

    کوئی وجدان کا موسم کوئی الہام کی رت

    جب بھی آئے گی یہ دے گا کوئی نادیدہ سراغ

    آپ ادھر آنکھ اٹھائیں تو دکھائی دے گا

    شیشۂ لمحہ ہے یہ جس میں ہے صدیوں کی شراب

    سانس کے گملوں میں یہ عمر دو روزہ کے گلاب

    جھاڑ فانوس ہیں تخئیل کے روشن ہیں چراغ

    آندھیاں آئیں تو یہ آنکھ ملا کرتے ہیں

    روغن فکر کی حدت سے جلا کرتے ہیں

    غور سے دیکھیے کیا کیا نہ سجھائی دے گا

    در و دیوار پہ پیشانیاں زخم آلودہ

    سجدے محرابوں میں آرامیدہ و آسودہ

    کانچ کا طاق ہے یہ جس میں ہے ارماں کی قطار

    یہ جو الفاظ کھلونوں کی طرح ہیں ان کی

    چابیاں نت نئے مفہوم کی ملتی ہیں ہزار

    یہ ہے احساس کا گلداں کہ ہیں کلیاں جس میں

    جب یہ چٹکیں تو چھٹی حس کی ضرورت ہوگی

    یہ وہ تصویر ہے آنکھوں کی زباں ہے جس کی

    وہ پڑے گا جسے توفیق بصیرت ہوگی

    نا فریدہ ہے یہ دنیا مگر اک خاکہ ہے

    خیر و شر ہوں گے مگر صورت حالات جدا

    نیک و بد کی نئی فرہنگ مرتب ہوگی

    روز و شب ہوں گے یہی صبح الگ رات جدا

    کیا کہا آپ نے وہ کون ہے! پتھر کی طرح

    وہ کوئی جنس نہیں ہے کہ جو بیچی جائے

    عکس زندہ ہے وہ میرا نہ کوئی چھو پائے

    وہ اسی آس پہ جیتا ہے یہ سب بکھرائے

    کوئی گاہک ادھر آئے گا پیمبر کی طرح

    مأخذ :
    • کتاب : Urdu-1983 (Pg. 159)
    • Author : Nand Kishore Vikram
    • مطبع : Publisher & Advertisers J-6, Krishan Nagar, Delhi-110051 (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY