سیلف پورٹریٹ

نیاز حیدر

سیلف پورٹریٹ

نیاز حیدر

MORE BYنیاز حیدر

    دیکھا ہے کسی نے اسے کہیں

    آدھے سر میں الجھے الجھے اجلے بال

    سانولے رنگ کے چہرے پر بھی

    اجلے بالوں کا بھونچال

    اس کی صورت

    کبھی کبھی ملگجی شام سی

    کبھی سحر نورانی ہے

    اندھیارے اجیالے کی یہ صورت فن لا فانی ہے

    پیشانی کے آئینے پر مر مٹتے لاکھوں آکاش

    دیوانی دیوانی آنکھیں

    اور بہت بے صبر نگاہیں

    دشٹ منوں کے ہر پتھر میں

    پریت اور کوملتا کی تلاش

    اس کے تن پر گرم کفن اور ٹھنڈی کفنی سجتی ہے

    سچا روپ ہے پاگل پن کا بے حد عجیب ہستی ہے

    مست انیک نشوں میں اس کے سب دن اور سب راتیں

    اس کے بہکے قدم کریں دھرتی کے دل سے باتیں

    گلی گلی میں چوراہے پر بھیڑ ہو یا ہو تنہائی

    اس دنیا کے ہوش کر پرکھے، نشے میں اس کی بینائی

    دیکھا ہے کسی نے اسے کہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY