شاہ صاحب اینڈ سنز

ساقی فاروقی

شاہ صاحب اینڈ سنز

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    شاہ صاحب خوش نظر تھے

    خوش ادا تھے

    اور روزی کے اندھیرے راستوں پر

    صبر کی ٹوٹی ہوئی چپل پہن کر

    اک للک اک طنطنے کے ساتھ سرگرم سفر تھے

    اور جینے کے مرض میں مبتلا تھے

    جو غذائیں دسترس میں تھیں

    عجب بے نور تھیں

    ان میں نموکاری نہ تھی

    وہ جو موتی کی سی آب آنکھوں میں تھی

    جاتی رہی

    پتلیوں میں خون

    کائی کی طرح جمنے لگا

    رفتہ رفتہ

    موتیابند ان کے دیدوں پر

    زمرد کی طرح اترا

    عجب پردا پڑا

    سارے زمانے سے حجاب آنے لگا

    مضطرب آنکھوں کے ڈھیلے

    خشک پتھرائے ہوئے

    اتنے بے مصرف کہ بس

    اک سبزہ دروازے کے پیچھے

    بند سیپی کی طرح سے

    اور اندھیرے آئینہ دکھلائیں استنجا کریں

    صرف دشمن روشنی کا انتظار زندگانی غزوۂ خندق ہوئی

    اس قدر دیکھا کہ نا بینا ہوئے

    اور جب رزاق نگاہوں میں

    سیاہی کی سلائی پھر گئی

    چھتنار آنکھوں سے

    تجلی کی سنہری پتیاں گرنے لگیں

    تو شاہ صاحب اور بے سایہ ہوئے

    ان کی اندھی منتقم آنکھوں میں دنیا

    ایک قاتل کی طرح سے جم گئی

    جیسے مرتے سانپ کی آنکھوں میں

    اپنے اجنبی دشمن کا عکس

    یوں سراسیمہ ہوئے

    یوں ذات کے سنسان صحراؤں میں افسردہ پھرے

    جیسے جیتے جاگتے لوگوں کو دیکھا ہی نہ ہو

    جو شبیہیں دھیان میں محفوظ تھیں

    ان سے رشتہ ہی نہ ہو

    جگمگاتی بے قرار آنکھیں

    کسی سہمے ہوئے گھونگھے کے ہاتھوں کی طرح

    دیکھتی تھیں سونگھتی تھیں لمس کرتی تھیں

    وہی جاتی رہیں تو زندگی سے رابطہ جاتا رہا

    ہمدمی کا سلسلہ جاتا رہا

    وہ جو اک گہرا تعلق

    اک امر سمبندہ سا

    چاروں طرف بکھری ہوئی چیزوں سے تھا

    ہنستے ہوئے روتے ہوئے لوگوں سے تھا

    اس طرح ٹوٹا کہ جیسے شیر کی اک جست سے

    زبیر کی ریڑھ کی ہڈی چیخ جاتی ہے

    برسوں بے طرح بے کل رہے

    ایک دن آنکھوں میں صحرا جل اٹھا

    وہ خیال آیا کہ چہرہ جل اٹھا

    اپنے بیٹوں کو کلیجے سے لگایا

    جی بھرا تھا ابر کے مانند روئے

    رہ چکے تو ایک مہلک آتشیں تیزاب کے

    شعلۂ سفاک سے

    ان کی فاقہ سنج آنکھوں کو جلایا

    اور سجدے میں گرے

    جیسے گہری نیند میں ہوں

    جیسے اک سکتے میں ہوں

    مدتوں سے ان بیاباں راستوں پر

    چار اندھے دوستوں کا ایک کورس گونجتا ہے

    اے سکھی شہر سخاوت میں گزار اوقات کر

    اے نذر والے نذر خیرات کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites