شاید گلاب شاید کبوتر

رئیس فروغ

شاید گلاب شاید کبوتر

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    پھر کیا ہوا

    پھر یوں ہوا

    کہ اس کی ایک آنکھ سے چمگادڑ نے چھلانگ لگائی

    اور ایک آنکھ سے پھڑپھڑاتا ہوا خار پشت نکلا

    پھر جو وہ ایک دوسرے پر جھپٹے ہیں

    تو ایسے جھپٹے

    کہ منڈیریں کبوتروں سے

    اور کیاریاں گلابوں سے

    بھر گئیں

    اس دن کے بعد ہم نے مداری کو کبھی نہیں دیکھا

    اچھا اب تم

    میرے لیے پان لگا دو

    اور اچھے خوابوں پہ دھیان جما کے

    سو جاؤ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY