شناسائی

اشفاق حسین

شناسائی

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    لوٹ بھی آئیں اگر اب

    وہ شناسا لمحے

    اور میں تجھ سے ملوں بھی

    تو دبے لفظوں میں

    پوچھیں گے سبھی

    کن ستاروں کی گزر گاہ پہ تم پہلے پہل نکلے تھے

    کون سی جھیل تھی وہ

    جس میں تم پہلے پہل ڈوبے تھے

    کون سے پیڑ تھے وہ

    جن کے سایوں میں

    محبت کے شگوفے پھوٹے

    اتنے بدلے ہوئے حالات کے دوراہے پر

    ان سوالوں کے جوابات میں کیسے دوں گا

    اجنبی بن کے ملوں گا

    تو کوئی پوچھ نہ لے

    یہ جو آنکھوں میں

    محبت کا رواں ہے دریا

    اس کی کس موج سے

    رشتہ ہے شناسائی کا

    اس کو ڈر کیسا ہے رسوائی کا

    اور اگر

    تجھ سے نہ ملنے کی قسم کھاؤں

    تو پھر

    دل کی ہر رگ سے لہو ٹپکے گا تنہائی کا

    میں سہے جاؤں گا یہ زخم شناسائی کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY