شرابی

انجم اعظمی

شرابی

انجم اعظمی

MORE BYانجم اعظمی

    INTERESTING FACT

    (علی گڑھ۔۔۔ 51 ؁ء)

    یہ مے کدہ ہے ترا اور میں شرابی ہوں

    سنبھال ساقیا مینا کو اپنے ہاتھوں میں

    مجھے بھی آج مع ارغواں کی حاجت ہے

    سرک رہے ہیں رخ کائنات سے پردے

    دل و دماغ میں اک روشنی سی در آئی

    ہر ایک گھونٹ پہ کچھ زندگی کے راز کھلے

    محیط ہو گئی کون و مکاں کی گیرائی

    مگر یہ جام کے اندر بھی کیسی تاریکی

    بہت ہی تلخ ہے اپنا خمار بادہ کشی

    کہیں چراغ بجھا جل اٹھے کہیں فانوس

    وہی تضاد وہی ہے کشاکش ہستی

    حیات آج کہاں کھینچ کر مجھے لائی

    سنبھال ساقیا مینا کو اپنے ہاتھوں میں

    حیات کے لئے کوئی شراب ہے کہ نہیں

    بس ایک بار تو ایسی پلا دے اے ساقی

    کہ ہوش آ نہ سکے تیرے پینے والے کو

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY