شعرائے پاکستان کا خیر مقدم

عرش ملسیانی

شعرائے پاکستان کا خیر مقدم

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    دلچسپ معلومات

    (دہلی میں انڈو پاکستان مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر یہ نظم کہی گئی)

    یہ وقت نہیں قصۂ محتاج و غنی کا

    یہ وقت نہیں دل دہی و دل شکنی کا

    یہ وقت نہیں شکوۂ دنیائے دنی کا

    اے ہم سخنو وقت ہے یہ ہم سخنی کا

    کب تک یہ رہے گا کہ رہو ہم سے جدا تم

    ہم تم سے ادھر اور ادھر ہم سے خفا تم

    یہ سچ ہے کہ تقسیم ہوا ملک ہمارا

    یہ سچ ہے کہ اونچا ہوا نفرت کا ستارا

    یہ سچ ہے کہ نفرت کا ہوا عام اجارا

    یہ سچ ہے کہ نفرت نے عداوت کا ابھارا

    ہم تم میں جو رشتہ ہے وہ کب ٹوٹ سکے گا

    دامن جو ادب کا ہے وہ کب چھوٹ سکے گا

    اے ہم سخنو اصل میں رہبر تو ہمیں ہیں

    مایوس خلائق کے پیمبر تو ہمیں ہیں

    جو اوج پہ رہتے ہیں وہ اختر تو ہمیں ہیں

    مے پاش جو سب پر ہیں وہ ساغر تو ہمیں ہیں

    ہم چاہیں تو سکہ حق و انصاف کا چل جائے

    ہم چاہیں تو تقدیر امم پل میں بدل جائے

    پیمان ادب باندھ کے اک عمر گزاری

    ہم شعر کے خادم ہیں محبت کے پجاری

    وابستہ ادب سے ہے ہر اک بات ہماری

    کرنے دو جو کرتے ہیں سیاست کے مداری

    جو فکر میں ہے لطف فراست میں نہیں ہے

    جو شعر میں جادو ہے سیاست میں نہیں ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY