صبح جدائی

مجید امجد

صبح جدائی

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    اب دھندلی پڑتی جاتی ہے تاریکئ شب میں جاتا ہوں

    وہ صبح کا تارا ابھرا وہ پو پھوٹی اب میں جاتا ہوں

    جاتا ہوں اجازت جانے دو وہ دیکھو اجالے چھانے کو ہیں

    سورج کی سنہری کرنوں کے خاموش بلاوے آنے کو ہیں

    وہ پھولوں کے گجرے جو تم کل شام پرو کر لائی تھیں

    وہ کلیاں جن سے تم نے یہ رنگیں سیجیں مہکائی تھیں

    دیکھو ان باسی کلیوں کی پتی پتی مرجھائی ہے

    وہ رات سہانی بیت چکی آ پہنچی صبح جدائی ہے

    اب مجھ کو یہاں سے جانا ہے پر شوق نگاہو مت روکو

    او میرے گلے میں لٹکی ہوئی لچکیلی باہو مت روکو

    ان الجھی الجھی زلفوں میں دل اپنا بسارے جاتا ہوں

    ان میٹھی میٹھی نظروں کی یادوں کے سہارے جاتا ہوں

    جاتا ہوں اجازت وہ دیکھو غرفے سے شعاعیں جھلکی ہیں

    پگھلے ہوئے سونے کی لہریں مینائے شفق سے چھلکی ہیں

    کھیتوں میں کسی چرواہے نے بنسی کی تان اڑائی ہے

    ایک ایک رسیلی سر جس کی پیغام سفر کا لائی ہے

    مجبور ہوں میں جانا جو ہوا دل مانے نہ مانے جاتا ہوں

    دنیا کی اندھیری گھاٹی میں اب ٹھوکریں کھانے جاتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY