طلب ہے دریوزہ گر

قمر ہاشمی

طلب ہے دریوزہ گر

قمر ہاشمی

MORE BY قمر ہاشمی

    میں اپنی روح عذاب گر سے یہ کہہ رہا تھا

    کہ روح کی پیاس اور بدن کی طلب میں

    ایک ربط باہمی ہے

    نہ روح سرشار ہے نہ تابندگی تن ہے

    یہ ریزہ ریزہ جو رزق پہنچا ہے تار و پو کا

    سرشتۂ نا تواں ہے عرض ہنر کے دامان بے رفو کا

    یہ لقمۂ خشک و حلق فرسا

    کبھی تو لذت شعار کام و دہن بھی ہوتا

    فصیل تن ماورائے پس خوردگی بھی ہوتی

    میں دست کوتاہ گیر دولت سے پوچھتا ہوں

    کہ عمر بھر تو نے کاغذی پیرہن سیے کیوں

    زبان آلودہ کار کو سی کے بیٹھ جاتا

    تو سخت کوش عذاب سود و زیاں نہ سہتی

    یہ لمحے آثار باقیہ ہیں

    کہ جن میں سانسیں بھی گھٹ رہی ہیں

    طلب ہے دریوزہ گر کہ اس نے

    شکست دل کی پناہ ڈھونڈی

    قلم چلا ہے تو روشنائی کے اشک ٹپکا

    نہ لوح دل پر

    حریف کو اپنے ساتھ مقتل کی دھوپ میں لا

    سواد محرومئ بشر تو نہیں

    گزر گاہ نا مرادی

    پہاڑ کاٹے ہیں جرأتوں نے

    خرابۂ ذہن پر تمازت غرور کی ہے

    سمن بری سایہ گستری ہے

    اسی کو زہراب آگہی دے

    اسی سے تعمیر آشیاں کر

    مآخذ:

    • کتاب : siip (Magzin) (Pg. 160)
    • Author : Nasiim Durraani
    • مطبع : Fikr-e-Nau ( 39 (Quarterly) )
    • اشاعت :  39 (Quarterly)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY