تنہا لمحوں کی سرگوشی

راج نرائن راز

تنہا لمحوں کی سرگوشی

راج نرائن راز

MORE BYراج نرائن راز

    تنہا لمحوں نے آ آ کر

    کان میں سرگوشی کی اکثر

    پوچھا ساتھی یہ تو بتاؤ

    زہر کے کتنے جام پیے ہیں

    جھوٹوں کو کیا مکاروں کو

    پھٹکارا للکارا بھی ہے

    دار کے گہرے سائے میں کیا

    جھنڈا حق کا لہرایا ہے

    پیار کو اک آدرش بنا کر

    کب قصد تصلیب کیا ہے

    جب جب بزم میں آئے ہو تم

    گم سم چپ چپ سر لٹکائے

    طوق گلے میں آہ کا ڈالے

    سر پر تاج غموں کا پہنے

    اپنے دکھوں کی مالا جپنے

    آ بیٹھے تم اس دنیا میں

    دنیا کو تم دیکھ چکے ہو

    ظلم کی آگ میں جلتی دنیا

    زرد زباں شعلوں کی جس کو

    چاٹ چکی ہے چاٹ رہی ہے

    سچ پوچھو تو خاک ہوئی ہے

    لیکن بات عجب ہے کتنی

    جب جب تم سے بات ہوئی تم

    اپنا دکھڑا لے بیٹھے ہو

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY