ترغیب

ساقی فاروقی

ترغیب

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    یہ ایک لمحہ جو اپنے ہاتھوں میں چاند سورج لیے کھڑا ہے

    مجھے اشاروں سے کہہ رہا ہے

    وہ میرے ہم زاد میرے بھائی

    جو پتیوں کی طرح سے کمھلا کے زرد ہو کے

    تمہارے قدموں میں آ گرے ہیں

    دریدہ یادوں کے قافلے ہیں

    وہ میرے ہم نام میرے ساتھی

    جو کونپلوں کی طرح سے پھوٹیں گے

    خوشبوؤں کی طرح چلیں گے

    نئے سرابوں کے سلسلے ہیں

    جو بیت جاتا ہے وہ فنا ہے

    جو ہونے والا ہے وہ فنا ہے

    یہ کیا کہ تم آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے کھڑے ہو

    ہزار بیدار لذتوں کو خراج دینے سے ڈر رہے ہو

    یہ میری آنکھوں ہیں میری آنکھوں میں

    اپنی آنکھوں کے رنگ بھر دو

    چلو مجھے لا زوال کر دو

    یہ ایک قطرہ جو زندگی کے سمندروں سے چھلک رہا ہے

    مری شکستوں کی ابتدا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ترغیب نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY