تیری یاد

وسیم بریلوی

تیری یاد

وسیم بریلوی

MORE BYوسیم بریلوی

    میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرا

    اجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سے

    بے وفائی کی طرح پھیلی ہوئی راہوں سے

    نئی تہذیب کے آباد بیابانوں سے

    دست مزدور پہ ہنستے ہوئے ایوانوں سے

    میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرا

    گاؤں کی دوپہری دھوپ کے سناٹوں سے

    خشک نہروں کے کناروں پہ تھکی چھاؤں سے

    اپنے دل کی طرح روئی ہوئی پگ ڈنڈی سے

    میں تری یاد کو سینے سے لگائے پہونچا

    بستیاں چھوڑ کے ترسے ہوئے ویرانوں میں

    تلخیٔ دہر سمیٹے ہوئے مے خانوں میں

    خون انسان پہ پلتے ہوئے انسانوں میں

    جانے پہچانے ہوئے لوگوں میں انجانوں میں

    میں تری یاد کو سینے سے لگائے پہونچا

    اپنے احباب ترے غم کے پرستاروں میں

    اپنی روٹھی ہوئی تقدیر کے غم خواروں میں

    اپنے ہم منزل و ہم راستہ فنکاروں میں

    اور فن کار کی سانسوں کے خریداروں میں

    میں تری یاد کو سینے سے لگائے پہونچا

    یہ سمجھ کر کہ کوئی آنکھ ادھر اٹھے گی

    میری مغموم نگاہی کو مجھے سمجھے گی

    لیکن اے دوست یہ دنیا ہے یہاں تیرا غم

    ایک انسان کو تسکین بھی دے سکتا ہے

    ایک انسان کا آرام بھی لے سکتا ہے

    خوں میں ڈوبی ہوئی تحریر بھی بن سکتا ہے

    ایک فن کار کی تقدیر بھی بن سکتا ہے

    ساری دنیا کے مگر کام نہیں آ سکتا

    سب کے ہونٹوں پہ ترا نام نہیں آ سکتا

    مآخذ:

    • کتاب : Mausam Andar Bahar ke (Pg. 84)
    • Author : Waseem Barelvi
    • مطبع : Maktaba Jamia Ltd. (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY