ٹیپو

MORE BYعرش ملسیانی

    اٹھا وہ خاک سرنگا پٹم سے مرد جری

    بدیسیوں کی حکومت تھی لرزہ بر اندام

    وہ اولین مجاہد کہ جس نے فرمایا

    رہے گا ہند نہ ہرگز فرنگیوں کا غلام

    پڑھائی اہل وطن کو نماز آزادی

    سکھائے جس نے ہمیں اس کے سب سجود و قیام

    بنائے طرز نوی جس نے کی تھی مستحکم

    بدل کے رکھ دیا جس نے قدامتوں کا نظام

    فلاح قوم کا جس نے کیا بلند علم

    رہی تھی جس کو مقدم ہمیشہ خیر انام

    وہ جاں فروش دلارا دکن کے حیدر کا

    جو اپنی ذات سے خود تھا مجاہدوں کا امام

    کہا یہ جس نے کہ اہل وطن کا ہے یہ وطن

    نہ غاصبوں کا نہ اغیار کا ہے کوئی مقام

    گواہ عظمت ٹیپو ہے رود کاویری

    یہیں ہوا تھا نبرد آزما وہ خوش فرجام

    شہید کا اسے دیتی ہے مرتبہ تاریخ

    بہ کیش صدق و صفا ہے یہی بڑا انعام

    ازل سے بات چلی آئی ہے زمانے میں

    جو نیک بندے ہیں ہوتا ہے ان کا نیک انجام

    منار مسجد جامع سے دے رہا ہوں صدا

    دکن کی خاک کے ذرو تمہیں ہزار سلام

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY