تم جا چکی ہو

زاہد امروز

تم جا چکی ہو

زاہد امروز

MORE BYزاہد امروز

    میرا دل دیر تک سوئے ہوئے منہ کی باس تھا

    جہاں تم خود رو پھول بن کر کھل اٹھی تھیں

    تمہارا منور وجود

    میری تاریک روح میں سرما کی دھوپ بنا

    تمہاری آنکھوں کی نمی سے کئی بہاروں نے خمار پیا

    جوتوں سے گری مٹی سے بنے میرے ہاتھ

    تمہاری تراشیدہ گولائیوں سے مل کر

    جنت کی جھیل بن گئے

    تمہارے سینے سے پھوٹتی آبشار کی موسیقی نے

    میری زخمی سماعت کو سریلا گیت بنا دیا

    میرے بنجر تخیل میں جہاں جہاں تمہارے قدم لگے

    وہاں میں نئی دنیا بن کر تخلیق ہوا

    اب تم جا چکی ہو

    میرے آنسوؤں کی ندی

    ایک ٹہنی کو بھی شجر نہیں کر سکی

    میرے ارادوں کی شبنم

    ایک کونپل کو بھی پھول نہیں کر سکی

    سمجھوتے کا بھیڑیا

    میرے ذرے ذرے سے تمہیں نوچ رہا ہے

    اور اداسی ڈوبتے سورج کی آخری کرن بن کر

    میرے کندھوں پر اندھیرے کی چادر ڈال رہی ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Quarterly TASTEER Lahore (Pg. 561)
    • Author : Naseer Ahmed Nasir
    • مطبع : H.No.-21, Street No. 2, Phase II, Bahriya Town, Rawalpindi (Volume:15, Issue No. 1, 2, Jan To June.2011)
    • اشاعت : Volume:15, Issue No. 1, 2, Jan To June.2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY