اکتائے ہوئے بدن

منور رانا

اکتائے ہوئے بدن

منور رانا

MORE BY منور رانا

    عمر کی ڈھلتی ہوئی دوپہر میں

    ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا احساس بھی

    آدمی کو تازہ دم کر دیتا ہے

    اور اگر سچ مچ خنک ہوائیں

    تھکن نصیب جسم سے کھیلنے لگیں

    تو شب کی تاریکی خضاب جیسی دکھائی دیتی ہے

    آس پاس گردش کرتا ہوا سناٹا

    آرزوؤں کی گہما گہمی سے گونجنے لگتا ہے

    خواب تعبیروں کی تلاش میں بھٹکنے لگتے ہیں

    بدن کی اکتاہٹیں چوپال کے شور شرابے میں ڈوب جاتی ہیں

    ڈھلتے ہوئے سورج کی لالی سے سہاگ جوڑے کی خوشبو

    آنے لگتی ہے

    لیکن خوابیدہ آرزوؤں کی شاہراہ سے گزرتے ہوئے

    لوگ

    اپنی منزل کا پتا بھول جاتے ہیں

    اسی پتا بھولنے کو سماج

    دھرم اور مذہب کی آڑ لے کر

    ایسی بے ہودہ گالیاں دیتا ہے

    جو طوائفوں کے محلوں میں بھی نہیں

    سنائی دیتیں

    مآخذ:

    • Book : Shahdaba (Pg. 69)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY