امید

MORE BYعزیز فیصل

    مجھے یقیں ہے

    کہ تم کون مہندی سے

    جب میرے عدو کا نام

    اپنی خوب صورت کلائی پر لکھو گی

    تو

    میرا خیال آتے ہی

    آخر ایک دن

    اس منحوس کے نام پر

    خود ہی

    بڑا سا کانٹا لگا دو گی

    اور دوسری کلائی پر

    میرا نام لکھ کر

    اسے دیر تک چومتی رہو گی

    میں اس لمحے کے انتظار میں

    متبادل کلائیوں کی جانب سے موصولہ

    ہزاروں دل پذیر آفریں

    مسلسل مسترد کئے جا رہا ہوں

    کیونکہ

    دنیا امید پر قائم ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY