وصال کی تیسری سمت

انجم سلیمی

وصال کی تیسری سمت

انجم سلیمی

MORE BYانجم سلیمی

    INTERESTING FACT

    میراؔجی کے لیے

    معذرت چاہتا ہوں دوست

    میں اب انتظار نہیں کرتا

    بلکہ خود چل پڑتا ہوں اپنی طرف

    ایک پوشیدہ چاپ کے تعاقب میں

    خود سے باہر نکلتا ہوں

    اور اپنے ہی جیسے کسی ہجوم کا حصہ بن کر

    اپنے وجود پر اکتفا کرتا ہوں

    اپنی عمیق روشنی سے نیا جنم لیتے ہوئے

    خود کی بنت میں بے جوڑ ہونے کی کاوش

    رائیگاں نہیں جاتی

    سنو!

    سمے کے بھید بھاؤ میں اپنا تخمینہ لگاتے ہوئے

    ذات کی جمع پونجی میں سے

    میں تمہیں اپنی حسیات سے مسترد نہیں کرتا

    بساط بھر صبر اور ایک مٹھی وصال کے عوض

    میں تمہیں کشید کرتا ہوں اپنے اطراف سے

    اور گنجائش پیدا کرتا ہوں تمہاری میزبانی کے لیے

    کسی اور جہت سے اپنے آپ میں

    لیکن معذرت

    میں انتظار نہیں کر سکتا

    اپنی رگوں میں بہتے ہوئے اس دکھ کے پگھلنے کا

    جو اپنے بہاؤ میں میری توجہ بہا لے جا سکتا ہے

    اپنے ساتھ

    میں طے شدہ گزر گاہوں کا مسافر نہیں

    مجھے تو ہر امکان سے گزر کر آنا ہے تمہاری سمت

    اور ہاں۔۔۔

    میں تو اپنا بھی انتظار نہیں کرتا ہوں اب!!!

    مآخذ
    • کتاب : Aik Qadeem Khayal Ki Nigrani Mein (Pg. 71)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY