ویپنس آف ماس ڈسٹرکشن

علی عمران

ویپنس آف ماس ڈسٹرکشن

علی عمران

MORE BYعلی عمران

    کوئی ہے

    کوئی بغداد کی فریاد سنتا ہے

    کوئی ہوگا جسے آواز آتی ہو

    کسی دشمن کے ٹاپوں کی

    دھماکوں کی

    عراقی کوکھ کو یوں روندتے ہیں

    ٹینک دشمن کے

    کہ زخم خون تھوکنے لگے بغدادی بدن کے

    فرات و دجلہ کے پانی کو کس نے خاک کر ڈالا

    کہ دشمن نے مری جنت کو بھی ناپاک کر ڈالا

    الف لیلیٰ شہزادی کے کپڑے پھاڑ ڈالے ہیں

    فرنگی نے مرے بچپن کے قصے پھاڑ ڈالے ہیں

    بدن جلتے ہوئے بچوں کی یہ بجھتی ہوئی آنکھیں

    عراقی آسماں سے سر اٹھا کر بس یہی پوچھیں

    ابابیلیں اترتی کیوں نہیں دکھتیں زمینوں پر

    ہمارے دشمنوں کے سرد سینوں پر

    وہ بچے جانتے کب ہیں

    ابابیلیں شہر سے دور اپنے گھونسلوں میں

    سیر ہو کر نیند میں گم ہیں

    وہ بچے جانتے کب ہیں

    ابابیلیں ابابیلیں نہیں ہیں

    میں اور تم ہیں

    وہ بچے جانتے کب ہیں

    کہ ان کے خون کے قطرے ہماری سرحدوں تک

    آتے آتے سوکھ جاتے ہیں

    ہماری حد ہے اور سرحد بھی ہے حاکم کے حکم سے

    خدا کا حکم ہے چھوٹا یہاں ظالم کے حکم سے

    شرابوں میں ڈبو دی ہیں مرے حاکم نے شمشیریں

    جلا دی ہیں سبھی آبا کی تصویریں

    مسلمانوں کی تقدیریں

    مرے بچو

    مرے بغداد کے سینے پہ پڑے ادھ مرے بچو

    کوئی عیسیٰ نہ آئے گا مسیحائی کوئی لے کر

    تمہاری ہم سے جو امید ہے

    وہ بے ثمر ہے

    ہماری اپنی زمیں ہے

    ہمارا اپنا بھی گھر ہے

    تمہاری آس اندھی ہے تمہارا خواب کالا ہے

    ہمارے دور کی مریم نے عیسیٰ مار ڈالا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY