یوں ہی سہی

قاضی سلیم

یوں ہی سہی

قاضی سلیم

MORE BY قاضی سلیم

    چلو یوں ہی سہی

    تم سب دریچے بند کر دو

    وہ ہوائیں روک دو

    جو خلا سینے کا بھرنے کے لیے آتی ہیں

    سانسیں تمہاری ساتھ لاتی ہیں

    تو ''لو'' ایسے سمے

    میری رگوں میں خون کے بدلے

    وہ پانی ہے

    جو ارماں سادھ لینے والے پیڑوں کا مقدر ہے

    مرے طوفان کی موجیں

    کسی برفیلے چوٹی کی وہ تحریریں ہیں جن کو

    اب فقط ایسے فرشتے پڑھ سکیں گے

    جو کبھی بد بخت دھرتی پر اترتے ہی نہیں

    چلو یوں ہی سہی

    تم جو بھی چاہو

    جس طرح چاہو وہی ہوگا

    میں اک گرداب کی مانند واپس لوٹتا ہوں

    اس سمندر میں

    کہ جس کی تہہ میں جا کر

    سب خزانے ڈوب جاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY