عافیہ حمید کے افسانے
موت پری
ہر طرف ہو کا عالم تھا، گلیاں سنسان تھیں۔ دکانیں، مارکیٹ بند، سڑکیں ویران، ایسا لگتا تھا سارا شہر قبرستان میں بدل گیا ہے۔ ہر طرف صرف ایک ہی ساز سنائی دیتا تھا۔ اور وہ ساز موت پری کے پازیب کا ساز تھا۔ موت کی پریاں ہر طرف رقص کر رہی تھیں۔ کوئی اگر مسرور