عبدالقادر سروری کا تعارف
اصلی نام : عبدالقادر
پیدائش : 19 Aug 1906 | حیدر آباد, تلنگانہ
وفات : 11 Mar 1971 | سری نگر, جموں و کشمیر
شناخت: اردو کے ممتاز محقق، نقاد، ماہرِ دکنیات، مخطوطہ شناس
عبد القادر سروری 19 اگست 1906ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حاجی محمد سرور خزانہ عامرہ میں ملازم تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مولوی محمد جعفری سے حاصل کی اور جامعہ عثمانیہ سے 1927ء میں ایم اے اور 1929ء میں ایل ایل بی کیا۔ دورانِ تعلیم ان کو وحید الدین سلیم پانی پتی اور مولوی عبد الحق جیسے جلیل القدر اساتذہ سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔
ان کا تدریسی کیریئر وحید الدین سلیم کی سفارش پر جامعہ عثمانیہ میں بحیثیت لکچرار شروع ہوا۔ 1942ء میں وہ میسور یونیورسٹی میں پروفیسر اور صدرِ شعبہ اردو مقرر ہوئے۔ 1948ء میں دوبارہ حیدرآباد واپس آئے اور جامعہ عثمانیہ کے صدرِ شعبہ اردو کی حیثیت سے 1961ء میں سبکدوش ہوئے۔ اپنی وفات سے قبل وہ سری نگر (کشمیر) میں پوسٹ گریجویٹ شعبہ اردو سے بھی وابستہ رہے۔
عبد القادر سروری کا علمی کام متنوع اور ہمہ گیر ہے: ان کو اردو فکشن کے ابتدائی اور اہم نقادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی کتاب "دنیائے افسانہ" (1929ء) اس موضوع پر بنیادی حوالہ ہے۔ انہوں نے چینی، جاپانی، انگریزی اور فرانسیسی افسانوں کو اردو میں منتقل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی تصنیف "جدید اردو شاعری" (1932ء) کو مالک رام نے حالی کے 'مقدمہ شعر و شاعری' کا تتمہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ "اردو مثنوی کا ارتقا" اور "اردو کی ادبی تاریخ" اہم کتابیں ہیں۔
انہوں نے قدیم دکنی ادب کی بحالی کے لیے گراں قدر کام کیا۔ ابن نشاطی کی 'پھول بن' اور صنعتی کی 'قصہ بے نظیر' کو مرتب کر کے شائع کیا۔ سراج اورنگ آبادی کی شاعری پر بھی انہوں نے تحقیقی کام کیا۔
وہ ڈاکٹر محی الدین قادری زور کے ساتھ مل کر 'ادارہ ادبیاتِ اردو' (حیدرآباد) کے بانیوں میں شامل تھے۔ اس ادارے نے اردو تحقیق اور قدیم مخطوطات کی اشاعت میں تاریخی کردار ادا کیا۔
وفات: 9 مارچ 1970ء میں سری نگر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://www.dawn.com/news/1539630