Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Abdul Wahid Sindhi's Photo'

عبدالواحد سندھی

1912 - 1988 | کراچی, پاکستان

بچوں کے ادیب، صحافی اور سندھی و اردو کے مصنف

بچوں کے ادیب، صحافی اور سندھی و اردو کے مصنف

عبدالواحد سندھی کا تعارف

اصلی نام : عبدالواحد

پیدائش :سُکّر, سندھ

وفات : 03 Jan 1988 | کراچی, سندھ

شناخت: بچوں کے ادیب، دینی مفکر، ماہرِ تعلیم، صحافی اور سندھی و اردو ادب کے مصنف

مولانا عبدالواحد سندھی 1912ء میں سندھ کے ضلع پنوعاقل (سابقہ ضلع سکھر) کے گاؤں بھلے ڈنو میں پیدا ہوئے۔ کم سنی ہی میں یتیم ہو گئے، جس کے باوجود انہوں نے علم کے حصول کا سفر جاری رکھا۔ ابتدائی تعلیم گھوٹکی کے معروف ادارے "مدرسہ قاسم العلوم" میں حاصل کی، جہاں انہیں انگریزی زبان سے شغف پیدا ہوا۔ بعد ازاں مولانا دین محمد وفائی کی معاونت سے عبداللہ ہارون اسکالرشپ حاصل کر کے 1922ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں داخل ہوئے۔

جامعہ ملیہ کے علمی و فکری ماحول نے ان کی شخصیت کو جلا بخشی، جہاں انہیں مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر محمد علی بجنوری، خواجہ عبدالحئی اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے جید اساتذہ کی صحبت میسر آئی۔ اسی ماحول میں ان کے اندر دینی شعور، قومی فکر اور ایک منفرد اسلوبِ بیان نے جنم لیا، جو بعد میں ان کی تحریروں کی پہچان بنا۔

مولانا عبدالواحد سندھی نے بچوں کے لیے متعدد کتابیں تحریر کیں، جن میں "اسلام کیسے شروع ہوا" اور "اسلام کے مشہور سپہ سالار" خاص طور پر مقبول ہوئیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے اصلاحی کہانیاں بھی لکھیں۔

ان کی تحریروں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ بچوں کو دین کی تعلیم صرف معلومات کی صورت میں نہیں دیتے بلکہ ان کے اندر کردار سازی، خدمتِ خلق، صبر، شکر، اخلاص اور بھائی چارے جیسے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی تعلیمات اور اسلامی تاریخ کو انہوں نے اس انداز میں پیش کیا کہ بچے آسانی سے اسے سمجھ سکیں اور اپنی زندگی میں نافذ کر سکیں۔

تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔ ابتدا میں ان کی تحریریں "عبدالواحد جامعی" کے نام سے شائع ہوتی رہیں، لیکن بعد ازاں مولانا عبیداللہ سندھی سے متاثر ہو کر انہوں نے "عبدالواحد سندھی" کے نام سے لکھنا شروع کیا۔ مولانا عبیداللہ سندھی کی فکر نے ان کے اسلوب اور موضوعات کو مزید پختگی عطا کی۔

قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے صحافت اور ادارت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ 15 نومبر 1948ء کو وزارتِ اطلاعات پاکستان کے تحت جاری ہونے والے خبروں کے بلیٹن کے اردو و سندھی تراجم سے وابستہ ہوئے اور اس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں یہی بلیٹن ایک باقاعدہ ادبی و علمی رسالے کی صورت میں "نئی زندگی" کے نام سے شائع ہوا، جس کی ادارت مولانا عبدالواحد سندھی نے سنبھالی۔

رسالہ "نئی زندگی" سندھی ادب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا، جس نے قیامِ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے ادبی جمود کو توڑا اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ مولانا سندھی نے نہ صرف ادبی تخلیق کو فروغ دیا بلکہ خواتین افسانہ نگاروں کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی، جن میں ثمیرہ زرین، مہتاب محبوب اور رشیدہ حجاب کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

انہوں نے "نئی زندگی" کے تحت اشاعتی سلسلے کا آغاز کیا اور سندھی ادب کی متعدد اہم کتابیں شائع کیں، جن میں "مہران کی لہریں"، "مہران کی موجیں"، "مہران کے موتی"، "شعراء کے سرتاج: شاہ عبداللطیف بھٹائی" اور دیگر اہم تصانیف شامل ہیں۔ ان خدمات کے باعث وہ سندھی ادب کی ترقی اور ترویج میں ایک اہم ستون کی حیثیت اختیار کر گئے۔

وفات: مولانا عبدالواحد سندھی کا انتقال 3 جنوری 1988ء کو کراچی میں ہوا اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔

Recitation

بولیے