ابرار اثر کے اشعار
نہ تو آفتاب کی ہے غرض نہ طلب مجھے کوئی چاند کی
وہ چراغ مجھ کو عزیز ہے مری ظلمتوں کو جو نور دے
پختہ اگر ہے عزم تو سوچو نہ دوستو
چھوٹی سی ناؤ اور سمندر وشال ہے
خطرہ تھا آندھیوں سے مگر ہائے رے نصیب
باد صبا چراغ بجھا کر چلی گئی
چمن میں شور ہے بھنوروں کی چاہت کا بہت لیکن
محبت گل کی بلبل سے ہے خاموشی کے پردے میں