Abroo Shah Mubarak's Photo'

آبرو شاہ مبارک

1685 - 1733 | دلی, ہندوستان

اردو شاعری کے بنیاد سازوں میں سے ایک، میر تقی میر کے ہم عصر

اردو شاعری کے بنیاد سازوں میں سے ایک، میر تقی میر کے ہم عصر

تخلص : 'آبرو'

اصلی نام : نجم الدین شاہ مبارک

ریختہ میں شمالی ہند کا پہلا صاحب دیوان شاعر

شمالی ہند میں اردو شاعری کو رواج دینے والوں میں آبرو کو اوّلیت کا شرف حاصل ہے۔ ان سے پہلے ولی اور دکن کے کچھ دوسرے شعراء اردو میں شاعری کر رہے تھے لین  شمالی ہند میں شاعری کی اصل زبان فارسی تھی  اردو شاعری محض تفریحاً منہ کا مزا بدلنے کے لئے کی جاتی تھی۔ پھر جب  1720ء میں ولی کا دیوان دہلی پہنچا  اور اس کے اشعار خاص و عام کی زبان پر جاری ہوئے تو جن لوگوں نے سب سے پہلے ریختہ کو اپنے شعری اظہار کا خاص ذریعہ بنایا ان میں فائز، شرف الدین مضمون ،محمد شاکر ناجی اور شاہ مبارک آبرو سرفہرست تھے۔ ان کے علاوہ ،یکرنگ احسان اللہ خاں اور حاتم بھی فارسی کو چھوڑ کر اردو میں شاعری کرنے لگے تھے۔لیکن ان سب میں آبرو کا اک خاص مقام تھا۔وہ اپنے زمانہ میں زبان ریختہ کے مسلم الثبوت شاعر اور صاحب ایجاد نظم اردو شمار ہوتے تھے۔ اوّلیت کے مسئلہ پر محققین نے خاصی بحثیں کی ہیں جن کا تجزیہ کرنے کے بعد ڈاکٹر محمد حسین کہتے ہیں ’’اس بحث سے یہ نتیجہ نکالنا غلط نہ ہو گا کہ فائز کی موجودہ کلیات جو نظرثانی کے بعد مرتب ہوئی،شمالی ہند میں اردو کا پہلا دیوان قرار دینے کے لئے ہمارے پاس قطعی اور مستحکم دلائل  موجود  نہیں  ہیں۔فائز کے بعد اوّلیت کا استحقاق آبرو اور حاتم کو ملتا ہے، حاتم کا دیوان دستیاب نہیں، صرف نظرثانی کے بعد مرتب کیا گیا ’دیوان زادہ‘  ملتا ہے۔اس صورت میں آبرو کا دیوان یقیناً  شمالی ہند میں اردو کا پہلا مستند دیوان ہے۔‘‘  آبرو نے شعر گوئی اس وقت شروع کی تھی جب شاعری میں فارسی کا سکّہ چلتا تھا اور متاخرین شعرائے فارسی کا کلام مقبول تھا۔آبرو نے فارسی اور برج دونوں کے رنگ و آہنگ کے اثرات قبول کئے اور  اپنے دور کے مزاج کو پوری طرح اپنایا اور اس کا اظہار ریختہ میں کیا اور یہ اظہار اس بےساختگی اور بانکپن سے ہوا جو محمد شاہی دور کی خصوصیت ہے۔تمام تذکرہ نویس متفق ہیں کہ آبرو اردو میں ایہام گوئی کے موجد نہ سہی اس کو رواج دینے اور اسے سکۂ رائج الوقت بنانے والوں میں ان کا نام سر فہرست ہے۔ اردو میں پہلا واسوخت لکھنے کا شرف بھی آبرو کو حاصل ہے۔
  آبرو کے حالات زندگی کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل نہیں ہیں۔بس اتنا معلوم ہے کہ ان کا نام نجم الدین عرف شاہ مبارک تھا۔ مشہور صوفی بزرگ محمد غوث گوالیاری کے پوتے تھے۔اور اس واسطے سے مشہور فارسی داں اور عالم خان آرزو کے رشتہ دار اور شاگرد تھے۔ آبرو 1683ء میں  گوالیار میں پیدا ہوئے اور جوانی میں 1706ء کے آس پاس دہلی آ کر شاہی ملامت سے وابستہ ہو گئے۔ اسی ملازمت کے سلسلہ میں کچھ عرصہ فتح علی گردیزی ،صاحب تذکرہ گردیزی کے والد کی معیت میں نارنول میں بھی رہے۔ اس کے بعد وہ دہلی آ گئے۔ آبرو نے ملازمت کے دوران عزت اور دولت حاصل کی اور ان کا شمار خوشحال لوگوں میں ہوتا تھا ۔ایک آنکھ سے معذور تھے۔داڑھی لمبی تھی اور ہاتھ میں عصا لے کر چلتے تھے۔ آخری عمر میں درویش اور قلندر مشہور تھے۔ہمعصر شاعروں میں مظہر جان جاناں اور بے نوا سے ان کی نوک جھونک چلتی تھی ۔آن کے مخالف عموماً  ان کی شاعری کی بجائے ان کی آنکھ کی خرابی کو تمسخر کا نشانہ بناتے تھے۔ مظہر جان جاناں نے کہا ’’آبرو کی آنکھ میں اک گانٹھ ہے**آبرو  سب شاعروں کی ۔۔۔ ہے‘‘  اس کے جواب   میں آ برو نے کہا ’’جب ستی ست پر چڑھے تو پان کھانا رسم ہے** آبرو جگ میں رہے تو جان جانا پشم ہے۔‘‘  اسی طرح اک شاعر بے نوا تھے جو الہ آباد سے دہلی وارد ہوئے تھے۔ایک مشاعرہ میں ان کی ملاقات آبرو سے ہوئی تو آبرو نے ان پر کوئی خاص توجہ نہ دی جس سے بے نوا کی انا کو چوٹ پہنچی اور انہوں نے آبرو سے کہا ’’میاں آبرو صاحب ! آپ مخلصوں کے احوال سے اس قدر تغافل کرتے ہیں جیسے آپ کی آنکھ میں ہماری کوئی جگہ نہیں‘‘ اس پر حاضرین مجلس ہنس پڑے۔ یہی نہیں آبرو کے اس شعر پر ۔ ’’تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے* کہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہے‘‘  پر چوٹ کرتے ہوئے بے نوا نے کہا۔ ’’کانے نے کیا اندھا شعر کہا ہے‘‘۔ یہ وہی بے نوا ہیں جنہوں نے میر تقی میرؔ پر اپنے ’’دو آبے‘‘ والے مضمون کے سرقہ کا الزام لگایا تھا اور انہیں برا بھلا کہا تھا۔ آبرو حسن پرست اور عاشق مزاج تھے۔ سید شاہ کمال کے بیےر میاں مکھن پاکباز  پر خاص نظر تھی۔ دیوان آبرو میں ان کے حوالے سے کئی شعر ملتے ہیں ۔۔مثلاً ’’مکھن میاں غضب ہیں فقیروں کے حال پر ** آتا ہے ان کو جوشِ جمالی کمال پر‘‘۔ اپنی لطیفہ بازی کے لئے مشہور محمد حسین آزاد نے آب حیات میں یہاں تک لکھ دیا کہ ’’اُن (آبرو) کے شعر جب تک مکھن میاں پاکباز کے کلام سے نہ چپڑے جائیں ،مزا نہ دیں گے‘‘۔ پاکباز کے علاوہ بھی انھوں نے سبحان رائے،رمضانی،صاحب رائے،قصائی،سنار اور مختلف پیشوں سے تعلق رکھننے والے محبوبوں کا تذکرہ اپنے کلام میں کیا ہے۔ عورتوں میں اپنے وقت کی مشہور طوائفوں، جیسے پنّا  ممولا،جمال وغیرہ کا ،جو اس زمانہ  میں   Celebrity کا  درجہ رکھتی تھیں،تذکرہ ان کے اشعار میں ملتا ہے۔ رقص و موسیقی سے آبرو کو خاص شغف تھا ۔ سدارنگ دربار شاہی کے خاص بین نواز تھے جن سے آبرو کو دلی تعلق تھا ۔سدارنگ کچھ عرصہ کے لئے آگرہ چلے گئے تو آبرو نے کہا۔۔’’بھولو گے تم اگر جو سدا رنگ جی ہمیں* تو ناؤں بین بین کے تم کو دھریں گے ہم‘‘  ۔ عورتوں کے ساتھ ان کے تعلقات جنسی سے زیادہ ان کی جمالیاتی حس کی تسکین کے لئے تھے ۔وہ ان عورتوں کی تعریف ان کے فن کے حوالہ سے کرتے نظر آتے ہیں۔’’میٹھے بچن سنا دے،طوطی کو تب لجا دے* جب ناچنے پہ آوے تب مور ہے ممولا‘‘ یا  ’’خدا تجھے بھی کرے، باغ بیچ رنگ کے، سبز* تری صدا نے کیا ہے ہمیں نہال جمال‘‘ یا ’’قیامت راگ، ظالم بھاؤ،کافر گت ہے اے پنّا* تمہاری چیز سو دیکھی سو اک آفت ہے اے پنّا‘‘۔ آبرو کی ساری شخصیت اور کلام محمد شاہی دور کی سرمستی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کھیلوں میں گنجفہ اور کبوتر بازی کا شوق تھا۔ اچھے لباس اور قیمتی پوشاکوں کے شوقین تھے۔اپنی محبوباؤں کے جسم پر ان قیمتی کپڑوں کا تذکرہ بھی ان کے کلام میں جا بجا ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آخری عمر میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر درویش بن گئے تھے لیکن آخری عمر کو ضعیفی پر محمول کرنا غلط ہوگا کیونکہ آبرو نے صرف پچاس برس کی عمر پائی اور مصحفیؔ کے مطابق 1733ء میں گھوڑے کے لات مار دینے سے ان کا انتقال ہوا۔ان کی قبر دہلی میں سید حسن رسول نما کے نزدیک ہے۔
  آبرو کی  شاعری اپنے عہد کی ترجمان ہے اور نظم میں اک تاریخی دستاویز ہے۔ ان کی شاعری پڑھ کر اس زوال آمادہ معاشرہ کی معاشرتی اور تہذیبی تصویر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ عشق جو غزل کا خاص موضوع ہے ان کے عہد میں فراق محبوب میں رونے کڑھنے کا نام نہیں تھا۔ نہ یہ چھپانے اور دل میں رکھنے کی چیز تھا۔ مختلف درجات کی بازاری عورتیں عام تھیں اور حسب استطاعت ان سے فیض حاصل کیا جا سکتا تھا ۔ امرد پرستی کو عشق مجازی اور اس طرح عشق حقیقی کی پہلی منزل قرار دیتے ہوئے تقدس حاصل تھا۔ خوبرو لونڈے کسی کا معشوق بننے کے آرزو مند رہتے تھے چنانچہ آبرو نے اک معرکہ آرا مثنوی ’’در موعظہ معشوقاں‘‘ اسی موضوع پر لکھی جس میں معشوق بننے کے لوازم بتاے گئے ہیں۔ اپنے عہد کے حوالہ سے یہ مثنوی اردو میں اک انوکھی اور منفرد مثنوی ہے۔  آبرو اور ریختہ میں ان کے ہمصر  شاعروں کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو غزل کو فارسی کے شکنجہ سے آزاد کیا۔ ان کی کوشش تھی کہ اردو شاعری کو ہندوستانی رنگ میں رنگا جائے۔اس کے مضامین اور انداز بیان ہندوستانی ہوں ۔ کچھ شاعروں مثلاً یکرنگ نے شعر میں فارسی اضافتوں کا استعمال بھی ترک کر دیا۔ یہ لوگ اردو شاعری کو اک جداگانہ  اور امتیازی تشخص دینا چاہتے تھے جس میں ایرانیت کے بجائے ہندستانیت ہو  ’’خوش یوں ہی قدم شیخ کا ہے معتقداں کو*جوں کشن کو کبجا کا لگے کوب پیارا‘‘یا ’’مرااے ماہرو کیوں خون اپنے سر چڑھاتے ہو*رکت چندن کا یوں کس واسطے ٹیکا لگاتے ہو (رکت چندن=صندل سرخ) یا’’ تیرے زنان پن کی نازک ہے شکل بندھنی*تصویر پدمنی کی اب چاہئے چترنی‘‘ ۔ریختہ میں فارسی حرف و فعل کے استعمال کو برا جانتے تھے ۔ چنانچہ آبرو نے کہا  ’’وقت جن کا ریختہ کی شاعری میں صرف ہے*ان ستی کہتا ہوں بوجھو صرف میرا ژرف ہے/جو کہ لاوئے ریختہ میں فارسی کے فعل و حرف*لغو ہیں گے فعل اس کے ریختہ میں حرف ہے‘‘۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے شاعری کو عوام پسند بنایا اور شاعری کا چرچا گھر گھر ہو گیا۔ آبرو پر الزام ہے کہ انھوں نے ایہام گوئی کو فروغ دیا لیکن اس بات کو فراموش کر دیا جاتا ہے کہ یہ ان کی ضرورت یا مجبوری تھی۔ آبرو اور ان کے معاصرین ریختہ کو ہندوستانی رنگ دینا چاہتے تھے اور ہندی کا شلیش النکار (اردو میں ایہام) عوام کو اس شاعری کی طرف متوجہ کرنے کا اچھا ذریعہ تھا۔ بعینہ یہی صورت حال ہمیں بہت بعد میں لکھنوی شاعری میں ملتی ہے کہ جب لکھنؤ کے شاعروں نے دہلوی شاعری کا جوا اپنے سر سے اتار پھینکنے کی کوشش کی تو رعایت لفظی میں پناہ لی اور ان کو بے پناہ مقبولیت ملی۔
لیکن ایسا بھی نہیں کہ آبرو میں ایہام کے سوا کچھ  نہ ہو۔ آبرو کی شاعری کی خصوصیت خوش وقتی اور مزے داری ہے۔انھوں نے زمانے کے مدّ وجزر دیکھے اور ان کے نشانات ان کی شاعری میں جا بجا ملتے ہیں۔ان کی شاعری کی فضا تمام تر مجلسی ہے۔ڈاکٹر محمد حسن کے الفاظ میں آبرو صرف طرز بیان کا نہیں بلکہ اک شخصیت،اک مزاج اور اک دور کا نام ہے اور اس دور ِاس شخصیت اور اس مزاج کا اک اپنا نشہ ہے اس میں عظمت نہ سہی مزا ضرور ہے بالیدگی نہ سہی چاشنی ضرور ہے۔