noImage

ابوزاہد سید یحییٰ حسینی قدر

حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے کلاسیکی مزاج کے شاعر، اپنی رباعیوں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے کلاسیکی مزاج کے شاعر، اپنی رباعیوں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

توڑا نہیں جا سکتا پیمان محبت کا

نقصان خود اپنا ہے نقصان محبت کا

میں یہ کہتا ہوں کہ دونوں میں ضروری لاگ ہے

وہ یہ کہتے ہیں زمیں کو آسماں سے کیا غرض

کیوں عشق کے جھگڑے کو لے جاتا ہے عقبیٰ میں

کر خاتمہ دنیا میں دنیا کی مصیبت کا

دنیا کو ہم سے کام نہ دنیا سے ہم کو کام

خاطر سے تیری رکھتے ہیں سارے جہاں سے ربط

لوگ تجھ کو حقیر سمجھیں گے

حد سے زائد بھی انکسار نہ کر

جس کو خود اپنا اعتبار نہ ہو

ایسے انساں کا اعتبار نہ کر

اظہار حال کے لئے صورت سوال ہے

ہے گفتگو سے کام نہ ہم کو زباں سے ربط

آتی ہے نظر اس میں اخلاص کی ہر صورت

آئینہ ہے آئینہ انسان محبت کا

نالۂ بے صوت خود بننے لگا مہر سکوت

بے زبانی کو ہماری اب زباں سے کیا غرض

خاموش اس طرح سے نہ جل کر دھواں اٹھا

اے شمع کچھ تو بول کبھی تو زباں اٹھا

بے ربطیوں نے قدرؔ مٹائی جو ربط کی

ہے گوشت کو بھی اپنے نہ اب استخواں سے ربط