Adil Mansuri's Photo'

عادل منصوری

1936 - 2008 | احمد آباد, ہندوستان

ممتاز جدید شاعر، زبان کے روایت شکن استعمال کے لئے مشہور، اپنے خطاط اور ڈرامہ نگاربھی

ممتاز جدید شاعر، زبان کے روایت شکن استعمال کے لئے مشہور، اپنے خطاط اور ڈرامہ نگاربھی

غزل

اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصار

نعمان شوق

بدن پر نئی فصل آنے لگی

نعمان شوق

بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا

نعمان شوق

پھر کسی خواب کے پردے سے پکارا جاؤں

نعمان شوق

جو چیز تھی کمرے میں وہ بے_ربط پڑی تھی

نعمان شوق

جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھ

نعمان شوق

چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کو

نعمان شوق

سوئے ہوئے پلنگ کے سائے جگا گیا

نعمان شوق

عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کے

نعمان شوق

گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میں

نعمان شوق

نہ کوئی روک سکا خواب کے سفیروں کو

نعمان شوق

ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھا

نعمان شوق

نظم

ستارہ سو گیا ہے

نعمان شوق

لفظ کی چھاؤں میں

نعمان شوق

والد کے انتقال پر

نعمان شوق

افق کی ہتھیلی سے سورج نہ ابھرے

نعمان شوق

ایک نظم

نعمان شوق

پتھرپر تصویر بنا کر

نعمان شوق

سائے کی پسلی سے نکلا ہے جسم ترا

نعمان شوق

ساتویں پسلی میں پیلی چاندنی

نعمان شوق

طلسمی غار کا دروازہ

نعمان شوق

عینک کے شیشے پر

نعمان شوق

گوشت کی سڑکوں پر

نعمان شوق

گول کمرے کو سجاتا ہوں

نعمان شوق

وقت کی پیٹھ پر

نعمان شوق

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI