Adil Mansuri's Photo'

عادل منصوری

1936 - 2008 | احمد آباد, ہندوستان

ممتاز جدید شاعر، زبان کے روایت شکن استعمال کے لئے مشہور، اپنے خطاط اور ڈرامہ نگاربھی

ممتاز جدید شاعر، زبان کے روایت شکن استعمال کے لئے مشہور، اپنے خطاط اور ڈرامہ نگاربھی

عادل منصوری کے اشعار

7.8K
Favorite

باعتبار

کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کو

کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے

کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو

تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو

میرے ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کر

اس نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا

چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کچھ بولتے نہیں

بچے بگڑ گئے ہیں بہت دیکھ بھال سے

کوئی خودکشی کی طرف چل دیا

اداسی کی محنت ٹھکانے لگی

ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں

تری یاد آنکھیں دکھانے لگی

ایسے ڈرے ہوئے ہیں زمانے کی چال سے

گھر میں بھی پاؤں رکھتے ہیں ہم تو سنبھال کر

جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر

وہ تصویر باتیں بنانے لگی

تو کس کے کمرے میں تھی

میں تیرے کمرے میں تھا

پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا

اس گلبدن پہ نقش اٹھ آئے گلاب کے

دریا کے کنارے پہ مری لاش پڑی تھی

اور پانی کی تہہ میں وہ مجھے ڈھونڈ رہا تھا

مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوں

یہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوں

پھر بالوں میں رات ہوئی

پھر ہاتھوں میں چاند کھلا

دروازہ کھٹکھٹا کے ستارے چلے گئے

خوابوں کی شال اوڑھ کے میں اونگھتا رہا

حدود وقت سے باہر عجب حصار میں ہوں

میں ایک لمحہ ہوں صدیوں کے انتظار میں ہوں

ہم کو گالی کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں

غیر کو بوسہ دیا تو منہ سے دکھلا کر دیا

کب تک پڑے رہوگے ہواؤں کے ہاتھ میں

کب تک چلے گا کھوکھلے شبدوں کا کاروبار

دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا

جھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیا

خودبخود شاخ لچک جائے گی

پھل سے بھرپور تو ہو لینے دو

نیند بھی جاگتی رہی پورے ہوئے نہ خواب بھی

صبح ہوئی زمین پر رات ڈھلی مزار میں

انگلی سے اس کے جسم پہ لکھا اسی کا نام

پھر بتی بند کر کے اسے ڈھونڈتا رہا

کھڑکی نے آنکھیں کھولی

دروازے کا دل دھڑکا

حمام کے آئینے میں شب ڈوب رہی تھی

سگریٹ سے نئے دن کا دھواں پھیل رہا تھا

وہ تم تک کیسے آتا

جسم سے بھاری سایہ تھا

تصویر میں جو قید تھا وہ شخص رات کو

خود ہی فریم توڑ کے پہلو میں آ گیا

بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا

میں ہاتھ میں تلوار لیے جھوم رہا تھا

دریا کی وسعتوں سے اسے ناپتے نہیں

تنہائی کتنی گہری ہے اک جام بھر کے دیکھ

تم کو دعویٰ ہے سخن فہمی کا

جاؤ غالبؔ کے طرف دار بنو

کب سے ٹہل رہے ہیں گریبان کھول کر

خالی گھٹا کو کیا کریں برسات بھی تو ہو

خواہش سکھانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر

اب شام ہو چلی میاں دیکھو کدھر گئی

نشہ سا ڈولتا ہے ترے انگ انگ پر

جیسے ابھی بھگو کے نکالا ہو جام سے

جانے کس کو ڈھونڈنے داخل ہوا ہے جسم میں

ہڈیوں میں راستہ کرتا ہوا پیلا بخار

جسم کی مٹی نہ لے جائے بہا کر ساتھ میں

دل کی گہرائی میں گرتا خواہشوں کا آبشار

یادوں نے اسے توڑ دیا مار کے پتھر

آئینے کی خندق میں جو پرچھائیں پڑی تھی

گرتے رہے نجوم اندھیرے کی زلف سے

شب بھر رہیں خموشیاں سایوں سے ہمکنار

وہ جان نو بہار جدھر سے گزر گیا

پیڑوں نے پھول پتوں سے رستہ چھپا لیا

آواز کی دیوار بھی چپ چاپ کھڑی تھی

کھڑکی سے جو دیکھا تو گلی اونگھ رہی تھی

پھر کوئی وسعت آفاق پہ سایہ ڈالے

پھر کسی آنکھ کے نقطے میں اتارا جاؤں