noImage

عادل زیدی

عادل زیدی کے شعر

مات کھائی ہے اکثر شاہ نے پیادے سے

فرق کچھ نہیں پڑتا تاج اور لبادے سے

حال پوچھتے کیا ہو قصہ مختصر یہ ہے

گھر نہ بن سکا اب تک جو مکاں بنایا تھا

اپنے رسم و رواج کھو بیٹھے

باقی اب خاندان میں کیا ہے

یہ صحن ارض حرم ہے بہ احتیاط قدم

بہت قریب خدا ہے ذرا سنبھل کے چلو

جب بھی آنکھ لگے میں دیکھوں ایک سہانی صورت

دیوی تھی وہ روپ کی رانی یا پتھر کی مورت

گھٹائیں کھل کے برسیں تھیں چڑھے تھے دل کے دریا بھی

چڑھے دریاؤں کا اک دن اترنا بھی ضروری تھا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

speakNow