noImage

اے۔ڈی۔راہی

کیوں راتوں کا جاگیے کر کے اس کو یاد

پتھر دل پر کب اثر کرتی ہے فریاد

اچھا ہے کہ لگا نہیں انہیں پیار کا روگ

آتے آتے آئیں گے راہ پہ اگلے لوگ

برفیلی چٹان پر پیڑ کھڑا مسکائے

سارا موسم سرد ہے جسم آگ برسائے

پائل کبھی نہ کھول دے ساجن دل کا راز

دور دور تک جائے گی گھنگھرو کی آواز

سونے سب رستے پڑے ہوئے تھکن سے چور

راہیؔ کون بتائے گا منزل کتنی دور