آفتاب شمسی

غزل 10

اشعار 8

سبھی ہیں اپنے مگر اجنبی سے لگتے ہیں

یہ زندگی ہے کہ ہوٹل میں شب گزاری ہے

جو ساتھ لائے تھے گھر سے وہ کھو گیا ہے کہیں

ارادہ ورنہ ہمارا بھی واپسی کا تھا

طوفان کی زد میں تھے خیالوں کے سفینے

میں الٹا سمندر کی طرف بھاگ رہا تھا

دیکھ کر اس کو لگا جیسے کہیں ہو دیکھا

یاد بالکل نہیں آیا مجھے گھنٹوں سوچا

میں جنگلوں میں درندوں کے ساتھ رہتا رہا

یہ خوف ہے کہ اب انساں نہ آ کے کھا لے کوئی

کتاب 5

آخری سفر

 

2007

آخری سفر

 

2007

کل آج اور میں

 

2008

خلا کی دھند میں ہم چل رہے ہیں

 

2008

لمحوں کا حصار

 

1975

 

مزید دیکھیے

"رام پور" کے مزید شعرا

  • منیرؔ  شکوہ آبادی منیرؔ  شکوہ آبادی
  • نظام رامپوری نظام رامپوری
  • اظہر عنایتی اظہر عنایتی
  • سید یوسف علی خاں ناظم سید یوسف علی خاں ناظم
  • محشر عنایتی محشر عنایتی
  • عروج قادری عروج قادری
  • منور خان غافل منور خان غافل
  • طاہر فراز طاہر فراز
  • جاوید نسیمی جاوید نسیمی
  • فرحان سالم فرحان سالم