آغا گل کا تعارف
آغا گل کا اصل نام آغا انور گل ہے۔ ان کی ولادت کوئٹہ، پاکستان میں 19 نومبر 1951ء کو ہوئی۔ آغاگل کے تقریباً 20 افسانوی مجموعے، 4 ناول اور 2 ناولٹ ہیں۔ انھوں نے ترجمے کا کام بھی کیا ہے۔ آغا گل ایک باصلاحیت اور تخلیقی اپج سے مالا مال تخلیق کار ہیں۔ وہ ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے سب سے زیادہ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے دو مختصر ناول اوردو ناولٹ بھی منظر عام پر آچکے ہیں جبکہ وہ دیگر موضوعات پر بھی لکھتے آئے ہیں۔ ان کی دیگر تصانیف میں پارس لفظیں ، تاریخ کی گواہی اور شدرو مرجان وغیرہ ہیں ، یہ کتابیں تاریخی اور علمی نوعیت کی ہیں ۔ ان کے مختلف افسانوں کے ترجمے اردو سے بلوچی ، براہوی ، پشتو، ہندی اور انگریزی میں ہو چکے ہیں۔ بھارت سے شائع ہونے والے ’’بہترین عالمی ادب ۱۹۹۲ء‘‘ میں ان کے افسانے ’’دوسری بابری مسجد‘‘ کو سال کا بہترین عالمی افسانہ قرار دیا گیا تھا۔
آغا گل کے مطابق ”میرا تعلق بٹوارہ پر آنے والے گھرانوں سےہے۔ میں اب تک ملکی شہری نہیں، نان لوکل، ڈومی سائیل، آباد کار کا داغ لیے پھرتا ہوں۔ ادبی مخالفت کا بھی سامنا ہے۔ مجھے گوشۂ گمنامی میں دھکیلا جاتا ہے۔ بلوچستان کا اچھوت ، ہریجن ہوں۔ میں اپنے وطن کا نان لوکل ہوں۔“
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n89106068