Agha Hashr Kashmiri's Photo'

آغا حشر کاشمیری

1879 - 1935 | لاہور, پاکستان

ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور شاعر، جن کی تحریروں نے اردو میں ڈرامہ نویسی کو ایک مستحکم روایت کے طور پر رائج کیا

ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور شاعر، جن کی تحریروں نے اردو میں ڈرامہ نویسی کو ایک مستحکم روایت کے طور پر رائج کیا

اصلی نام : آغا محمّد شاہ

پیدائش : 03 Apr 1879 | بنارس, ہندوستان

وفات : 28 Apr 1935 | لاہور, پاکستان

Relatives : فریدہ خانم (سالی)

LCCN :n83184785

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں

آغا حشر کا اصل نام آغا محمد شاہ تھا۔ ان کے والد غنی شاہ بسلسلہ تجارت کشمیر سے بنارس آئے تھے اور وہیں آباد ہو گئے تھے۔ بنارس ہی کے محلہ گوبند کلاں، ناریل بازار میں یکم اپریل 1879کو آغاحشر کا جنم ہوا۔ 
آغا نے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم  حاصل کی اور قرآن مجید کے سولہ پارے بھی حفظ کیے۔ اس کے بعد ایک مشنری اسکلول جے نارائن میں داخل کرائے گئے۔ مگر نصابی کتابوں میں دلچسپی نہیں تھی اس لیے تعلیم نا مکمل رہ گئی۔

بچپن سے ہی ڈرامہ اور شاعری سے دل چسپی تھی۔ سترہ سال کی عمر سے ہی شاعری شروع کر دی اور 18 سال کی عمر میں آفتاب ِ محبت کے نام سے ڈرامہ لکھا جسے اس وقت کے مشہور ڈرامہ نگاروں میں مہدی  احسن لکھنوی کو دکھایا تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ نگاری بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ 

منشی احسن لکھنوی کی اس بات کو آغا حشر کاشمیری نے بطور چیلنچ قبول کیا اور اپنی تخلیقی قوت، اور ریاضت سے اس طنز کا ایسا مثبت جواب دیا کہ آغا حشر کے بغیر اردو ڈرامہ کی تاریخ مکمل ہی نہیں ہو سکتی، انہیں جو شہرت، مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہے، وہ ان کے بہت سے پیش رؤوں اور معاصرین کو نصیب نہیں ہے۔

مختلف تھیٹر کمپنیوں سے آغا حشر کاشمیری کی وابستگی رہی، اور ہر کمپنی نے ان کی صلاحیت اور لیاقت کا لوہا مانا۔ الفریڈ تھیٹریکل کمپنی کےلئے آغا حشر کو ڈرامے لکھنے کا  موقع ملا، اس کمپنی کے لیے آغا حشر نے جو ڈرامے لکھے، وہ بہت مقبول ہوئے۔ اخبارات نے بھی بڑی ستائش کی۔ آغا حشر کی تنخواہوں میں اضافے بھی ہوتے رہے۔

آغا حشر کاشمیری نے اردو، ہندی اور بنگلہ زبان میں ڈرامے لکھے جس میں کچھ طبع زاد ہیں اور کچھ وہی ہیں جن کے پلاٹ مغربی ڈراموں سے ماخوذ ہیں۔

آغا حشر کاشمیری نے شکسپیر کے جن ڈراموں کو اردو کا قالب عطا کیا ہے ، ان میں  شہیدناز،  صید ہوس، سفید خون، خواب ہستی بہت اہم ہیں۔ 

آغا حشر کاشمیری نے رامائن اور مہابھارت کے دیومالائی قصوں پر مبنی ڈرامے بھی تحریر کیے ہیں ، جو اس وقت میں بہت مقبول ہوئے۔