Agha Hashr Kashmiri's Photo'

آغا حشر کاشمیری

1879 - 1935 | لاہور, پاکستان

ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور شاعر، جن کی تحریروں نے اردو میں ڈرامہ نویسی کو ایک مستحکم روایت کے طور پر رائج کیا

ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور شاعر، جن کی تحریروں نے اردو میں ڈرامہ نویسی کو ایک مستحکم روایت کے طور پر رائج کیا

یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارے

مرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں

گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے

ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی

وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی

گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک

تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

حشر میں انصاف ہوگا بس یہی سنتے رہو

کچھ یہاں ہوتا رہا ہے کچھ وہاں ہو جائے گا

ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں

اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں

نکہت ساغر گل بن کے اڑا جاتا ہوں

لئے جاتا ہے کہاں بادۂ سر جوش مجھے