Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Aiman Jafari's Photo'

ایمن جعفری

1914 - 1984

کلاسک اور جدید غزل کی معتبر آواز

کلاسک اور جدید غزل کی معتبر آواز

ایمن جعفری کا تعارف

تخلص : 'ایمن'

اصلی نام : لیاقت حسین

پیدائش : 20 Nov 1914 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

وفات : 31 Dec 1984 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

ایمن جعفری کا اصل نام لیاقت حسین ہے جب کہ دنیائے ادب میں پہلے ایمن منصوری، بعد میں ایمن جعفری کے نام سے معروف ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد شفیع ہے اور ولادت 20 نومبر 1914ء کو ضیا بی بی لین، گھسڑی، ہوڑہ میں ہوئی تھی جب کہ ان کا آبائی وطن بلیا، اترپردیش ہے۔ گھرکا ماحول مذہبی تھا اس لیے اردو فارسی کی حدوں تک ہی تعلیم کی حصولیابی ہوسکی ویسے کسی حد تک انگریزی سے بھی واقفیت تھی۔ 1934ء سے ہی  شعر کہنے لگے تھے۔ آرزو سہارن پوری اور غواص قریشی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ ان کا شعری مجموعہ بنام ”عکسِ الہام“ 1982ء میں منظر عام پر آیا تھا۔

ایمن جعفری کی شعر گوئی پر معروف شاعر، ادیب، صحافی اور مترجم سالک لکھنوی اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
”ایمن جعفری نے بہتوں کی طرح جدیدیت کو فیشن کے طور پر اپنا یا یا ان کی ہمہ گیر طبیعت نے اسے ذہنی طور پر قبول کر لیا اس کا فیصلہ دشوار ہے اب جب کہ طوفان تھم چکا ہے، جدید ذہن بھی اس انبارِ خس و خاشاک سے خود کو پاک رکھنے کی کوشش میں ہے جس نے آئینۂ شعرو سخن کو دھندلا کر کے رکھ دیا تھا۔ اب ”جدیدیت پسندی“ کی جگہ جدت پسندی لینے لگی ہے جو بڑے ہی خوشگوار نتائج کی حامل ہے۔ ادب ہو یا کوئی اور فنِ لطیف یا خود زندگی کی قدریں ہوں انہیں ہمیشہ کے لیے ماضی کی جامد زنجیروں میں قید نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ خلافِ قانونِ فطرت ہے۔ زندگی اور اس کی قدروں میں انقلاب ناگزیر ہے، ایمن جعفری  جدت پسند ہوتے ہوئے بھی اردو شاعری کی اعلیٰ روایات سے ان کے ذہن کا ایک رشتہ قائم ہے اس لیے نئے تجربوں میں روایتی علامتوں کو سمونے کی بھی کوشش کرتے ہیں“

ترقی پسند شاعر، ادیب اور صحافی ابراہیم ہوش نے ایمن جعفری کی شاعری پر اپنے تاثرات کو اس طرح پیش کیا ہے۔
”ایمن جعفری بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ غزل کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں خارجیت سے زیادہ داخلیت پائی جاتی ہے۔ غزل گو جو کچھ کہتا ہے اپنے آپ میں ڈوب کر کہتا ہے۔ غزل کی اس بنیادی خصوصیت میں آج تک کوئی فرق نہیں آیا اگرچہ اس کے اسلوب میں برابر تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ اور یہ تبدیلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ غزل اپنی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے مختلف حالات سے مطابقت کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہر غزل گو کا کلام شاعر کی داخلی کیفیات سے اور اپنے تمدنی و معاشرتی ماحول سے متاثر ہوتا ہے، وہ حیات و کائنات سمجھنے کے لیے احساسِ جمال کو بطور قدراستعمال کرتا ہے۔ ایمن جعفری کے کلام میں دونوں باتیں بدرجۂ اتم ملیں گی اور اس اعتبار سے میں انہیں ایک خوشگوار اور کامیاب شاعر سمجھتا ہوں۔ اگر چہ ان کے بعض اشعار کا فی الجھے ہوئے ہیں مگر مجموعی طور پر ان کے کلام میں شائستگی، پاکیزگی اور رکھ رکھاؤ کا عنصر بدرجۂ اتم پایا جاتا ہے۔“
ایمن جعفری کا انتقال 31 دسمبر 1984ء کو ٹکیہ پاڑہ، ہوڑہ، مغربی بنگال میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے