ایمن جعفری کے اشعار
جینے کے لیے آؤ کوئی راہ نکالیں
مرنے کے لیے تو ابھی اک عمر پڑی ہے
اٹھ گئی رسم محبت کی جہاں سے شاید
اب نظر آتا نہیں شہر میں دلبر کوئی
مخالفت سے بھی ہے سخت زخم یاری کا
بہت ہی گہرا لگے ہے جہاں لگے ہے میاں
رینگتے ہیں کرمک بغض و عناد
شہر کا ہر جسم ہے دیمک زدہ
چہروں پہ تو ہے وقت کی تہذیب کا غازہ
جسموں پہ گھنی گرد کدورت کی جمی ہے
کوئی تحریک تو ابھرے کوئی ہلچل تو ہو
کوئی پتھر کسی جانب سے ادھر بھی پھینکو
میں اپنے قتل کی خود کر رہا ہوں کیوں سازش
مرے لہو میں نہاں انتقام کس کا ہے
عکس اس کے چہرے کا چہرہ چہرہ دیکھو گے
وہ زمین ہے تو کل آسمان بھی ہوگا