Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Aiman Jafari's Photo'

ایمن جعفری

1914 - 1984

کلاسک اور جدید غزل کی معتبر آواز

کلاسک اور جدید غزل کی معتبر آواز

ایمن جعفری کے اشعار

جینے کے لیے آؤ کوئی راہ نکالیں

مرنے کے لیے تو ابھی اک عمر پڑی ہے

اٹھ گئی رسم محبت کی جہاں سے شاید

اب نظر آتا نہیں شہر میں دلبر کوئی

مخالفت سے بھی ہے سخت زخم یاری کا

بہت ہی گہرا لگے ہے جہاں لگے ہے میاں

رینگتے ہیں کرمک بغض و عناد

شہر کا ہر جسم ہے دیمک زدہ

چہروں پہ تو ہے وقت کی تہذیب کا غازہ

جسموں پہ گھنی گرد کدورت کی جمی ہے

کوئی تحریک تو ابھرے کوئی ہلچل تو ہو

کوئی پتھر کسی جانب سے ادھر بھی پھینکو

میں اپنے قتل کی خود کر رہا ہوں کیوں سازش

مرے لہو میں نہاں انتقام کس کا ہے

عکس اس کے چہرے کا چہرہ چہرہ دیکھو گے

وہ زمین ہے تو کل آسمان بھی ہوگا

Recitation

بولیے