471
Favorite

باعتبار

حادثے جان تو لیتے ہیں مگر سچ یہ ہے

حادثے ہی ہمیں جینا بھی سکھا دیتے ہیں

ہر خدا جنتوں میں ہے محدود

کوئی سنسار تک نہیں پہنچا

جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں

جانے کس بات کی وہ ہم کو سزا دیتے ہیں

کاش لوٹیں مرے پاپا بھی کھلونے لے کر

کاش پھر سے مرے ہاتھوں میں خزانہ آئے

شاید زباں پہ قرض تھا ہم نے چکا دیا

خاموش ہو گئے ہیں تجھے ہم پکار کے

پیڑ کو اپنا ہی سایہ نہیں ملتا لوگو

فصل اپنی کبھی پاتے نہیں بونے والے

جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن

اس برہنہ نظام میں ہر آدمی کی خیر

چارہ گر سب کے پاس جاتا تھا

صرف بیمار تک نہیں پہنچا

ایسے سلگ اٹھا تری یادوں سے دل مرا

جیسے دھدھک اٹھیں کہیں جنگل چنار کے

کس نے بیچا نہیں سخن اپنا

کون بازار تک نہیں پہنچا

ہر آدمی کے قد سے اس کی قبا بڑی ہے

سورج پہن کے نکلے دھندلے چراغ یارو

وہ ریت پر اک نشان جیسا تھا موم کے اک مکان جیسا

بڑا سنبھل کر چھوا تھا میں نے پہ ایک پل میں بکھر گیا وہ

اک بند ہو گیا ہے تو کھولیں گے باب اور

ابھریں گے اپنی رات سے سو آفتاب اور

یوں عبث کسی کو سدا نہ دو دل زار کو یہ بتا بھی دو

کبھی اب نہ آئیں گے لوٹ کر وہ جو ایک بار چلے گئے

فن جو معیار تک نہیں پہنچا

اپنے شہکار تک نہیں پہنچا

ایک مدت سے دھدھکتا رہا میرا یہ ذہن

تب کہیں جا کے فروزاں ہوئے لفظوں کے چراغ