اختر آصف کے اشعار
آئینہ تو عیبوں کی خبر دیتا ہے آصفؔ
خوش فہمیٔ انساں کا مگر کوئی کرے کیا
نہیں ہے مجھ کو چمن سے نکالنا آساں
بشکل رنگ رگ گل میں بس گیا ہوں میں
جس شخص کو سائے کی ہے آج بڑی چاہت
پوچھو تو کبھی اس نے پودے بھی لگائے ہیں
آئنہ سچ بولتا ہے آئنہ ہے معتبر
سچ کی عادت ڈال تو بھی معتبر ہو جائے گا