اختر شمار کا تعارف
تخلص : 'شمارؔ'
اصلی نام : اختر شمار
پیدائش : 17 Apr 1960 | راول پنڈی, پنجاب
وفات : 08 Aug 2022 | لاہور, پنجاب
LCCN :nb2004306284
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
اختر شمار (17 اپریل 1960ء—8 اگست 2022ء) پاکستان کے معروف اردو شاعر، ماہرِ تعلیم، محقق، کالم نگار اور ادبی صحافی تھے۔ ان کا شمار عصرِ حاضر کے اہم پاکستانی اردو شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ طویل عرصے تک فورمین کرسچین کالج یونیورسٹی، لاہور کے شعبۂ اردو سے وابستہ رہے اور شعبۂ اردو کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل گورنمنٹ کالج قصور اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تدریسی فرائض انجام دے چکے تھے۔ مصر کی جامعہ عین شمس اور جامعہ الازہر سے بھی وابستہ رہے اور وہاں اردو کی تدریس کے ساتھ پاکستان چیئر اور شعبۂ اردو سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالیں۔
اختر شمار کا تعلق بنیادی طور پر گاؤں سہال، چکری، ضلع راولپنڈی سے تھا۔ ان کے والد نے بعد میں ملتان میں سکونت اختیار کر لی، جہاں ڈاکٹر اختر شمار نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بی اے تک تعلیم ملتان میں حاصل کرنے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے اردو کیا۔ 2003ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی نگرانی میں ’’حیدر دہلوی: احوال و آثار‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس تحقیقی کام کے سلسلے میں انھوں نے ہندوستان کا بھی سفر کیا۔
ان کا تدریسی اور ادبی سفر تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط رہا۔ شاعری کے ساتھ تحقیق، تنقید، کالم نگاری اور ادبی صحافت میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انھوں نے ’’بجنگ آمد‘‘ کے نام سے پاکستان کا پہلا ادبی اخبار جاری کیا، جس میں خالصتاً ادبی خبریں اور ادب سے متعلق معلومات شائع ہوتی تھیں۔ مختلف اخبارات و رسائل میں کالم نگاری اور ادبی ایڈیشن کی ادارت سے بھی وابستہ رہے۔
اختر شمار کی شعری زندگی کا باقاعدہ آغاز 1984ء میں ’’روشنی کے پھول‘‘ کی اشاعت سے ہوا۔ ان کے اہم شعری مجموعوں میں ’’کسی کی آنکھ ہوئے ہم‘‘، ’’یہ آغازِ محبت ہے‘‘، ’’جیون تیرے نام‘‘، ’’ہمیں تیری تمنا ہے‘‘، ’’آپ سا کوئی نہیں‘‘، ’’تمھیں میری محبت ہو‘‘، ’’دھیان‘‘، ’’عاجزانہ‘‘ اور ’’اختر شماریاں‘‘(کلیات) شامل ہیں۔ پنجابی شاعری میں ’’اکھیاں دے وچ دل‘‘ اور ’’میلہ چار دیہاڑے‘‘ ان کی اہم کتابیں ہیں۔ ان کی شاعری میں غزل، نظم، گیت، حمد، نعت، سلام، مناجات اور ترانے جیسی اصناف شامل ہیں۔
نثر میں ان کی تصانیف کا دائرہ بھی وسیع ہے۔ ’’پنجابی ادب رنگ‘‘، ’’بھرتری ہری: ایک عظیم شاعر‘‘، ’’مَیں بھی پاکستان ہوں‘‘، ’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘، ’’ویلے دی اکھ‘‘، ’’دنیا مسافرخانہ اے‘‘، ’’خطوں میں دفن محبت‘‘، ’’آدابِ خود آگاہی‘‘، ’’موسیٰ سے مرسی تک‘‘، ’’لاہور کی ادبی ڈائری‘‘، ’’جی بسم اللہ‘‘ اور ’’حیدر دہلوی: احوال و آثار‘‘ ان کی اہم نثری اور تحقیقی تصانیف میں شمار ہوتی ہیں۔ ’’عشقِ درویش‘‘ میں انھوں نے اپنے مرشد صوفی ناظر حسین کے احوال و افکار کو قلم بند کیا۔
ڈاکٹر اختر شمار کو شاعری، تحقیق، تدریس اور ادبی صحافت کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی شخصیت اور ادبی خدمات پر مختلف جامعات میں تحقیقی مقالے بھی لکھے گئے۔
8 اگست 2022ء کو لاہور میں 63 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انھیں آبائی گاؤں سہال، چکری، ضلع راولپنڈی میں سپردِ خاک کیا گیا۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : nb2004306284