noImage

اختر ضیائی

1933 | لندن, برطانیہ

کوئی علاج غم زندگی بتا واعظ

سنے ہوئے جو فسانے ہیں پھر سنا نہ مجھے

آس ڈوبی تو دل ہوا روشن

بجھ گیا دل تو دل کے داغ جلے

دفعتاً آندھیوں نے رخ بدلا

ناگہاں آرزو کے باغ جلے

بھلا چکے ہیں زمین و زماں کے سب قصے

سخن طراز ہیں لیکن خلا میں رہتے ہیں