Akram Naqqash's Photo'

معاصر شاعروں میں شامل

معاصر شاعروں میں شامل

69
Favorite

باعتبار

کچھ تو عنایتیں ہیں مرے کارساز کی

اور کچھ مرے مزاج نے تنہا کیا مجھے

عشق اک ایسی حویلی ہے کہ جس سے باہر

کوئی دروازہ کھلے اور نہ دریچہ نکلے

میسر سے زیادہ چاہتا ہے

سمندر جیسے دریا چاہتا ہے

اندھا سفر ہے زیست کسے چھوڑ دے کہاں

الجھا ہوا سا خواب ہے تعبیر کیا کریں

یہ کون سی جگہ ہے یہ بستی ہے کون سی

کوئی بھی اس جہان میں تیرے سوا نہیں

جیوں گا میں تری سانسوں میں جب تک

خود اپنی سانس میں زندہ رہوں گا

بارہا تو نے خواب دکھلائے

بارہا ہم نے کر لیا ہے یقیں

ہزار کارواں یوں تو ہیں میرے ساتھ مگر

جو میرے نام ہے وہ قافلہ کب آئے گا

یہ پوچھ آ کے کون نصیبوں جیا ہے دل

مت دیکھ یہ کہ کون ستارہ ہے بخت میں

جیسے پانی پہ نقش ہو کوئی

رونقیں سب عدم ثبات رہیں

رکھوں کہاں پہ پاؤں بڑھاؤں کدھر قدم

رخش خیال آج ہے بے اختیار پھر

ہوا بھی چاہئے اور روشنی بھی

ہر اک حجرہ دریچہ چاہتا ہے

بدن ملبوس میں شعلہ سا اک لرزاں قرین جاں

دل خاشاک بھی شعلہ ہوا جلتا رہا میں بھی