علی رضا اسیر کے اشعار
مطمئن مجھ کو نہ کر جھوٹی تسلی دے کر
گر صراحی میں تری مے نہیں باقی ساقی
-
موضوع : بہانہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ٹہل رہا ہے اک آنسو لبوں کے پاس مرا
بگاڑ کچھ نہیں سکتی ہے اب یہ پیاس مرا
سانسوں کو بوئے زیست سے کفنا دیا گیا
خاک بدن میں روح کو دفنا دیا گیا
اک منزل سفر بھی تو اب تک نہیں ملی
میں شین شاعری پہ نہیں ہوں الف پہ ہوں
پرندے دیکھ کر اس شخص کو پر پھڑپھڑاتے ہیں
جو قید دل ہے ظاہر میں مگر آزاد لگتا ہے
ڈراؤنا ہے بہت ہے بڑا گھنا جنگل
نکل نہ پاؤ گے اس سے ہے اک انا جنگل