Anand Narayan Mulla's Photo'

آنند نرائن ملا

1901 - 1997 | الہٰ آباد, انڈیا

الہ آباد ہائی کورٹ کے جج تھے۔ لوک سبھا کے رکن بھی رہے

الہ آباد ہائی کورٹ کے جج تھے۔ لوک سبھا کے رکن بھی رہے

آنند نرائن ملا کا تعارف

تخلص : 'ملا'

اصلی نام : آنند نرائن

پیدائش : 24 Oct 1901 | لکھنؤ, اتر پردیش

وفات : 12 Jun 1997 | دلی, انڈیا

LCCN :n79078061

Awards : ساہتیہ اکادمی ایوارڈ(1964)

آئینۂ رنگین جگر کچھ بھی نہیں کیا

کیا حسن ہی سب کچھ ہے نظر کچھ بھی نہیں کیا

آنند نرائن ملا ہندوستان کے مشترکہ تہذیبی ، سماجی اور لسانی کلچر کی ایک زندہ علامت تھے ۔ ان کا یہ جملہ کہ ’’ میں اپنا مذہب چھوڑ سکتا ہوں لیکن اردو کو نہیں چھوڑ سکتا ‘‘ ان کی شخصیت کی اسی روشن جہت کو سامنے لاتا ہے ۔
ملا کشمیری الاصل تھے لیکن ان کے بزرگ پنڈت کالی داس ملا لکھنؤ آکر بس گئے تھے اور یہیں پنڈت جگت نرائن ملا کے یہاں ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۱ کو آنند نرائن ملا کی پیدائش ہوئی ۔  ملا کی ابتدائی تعلیم فرنگی محل لکھنؤ میں ہوئی ، ان کے استاد برکت اللہ رضا فرنگی محلی تھے ۔ اس کے بعد ملا نے انگریزی میں ایم، اے کیا اور قانون کی پڑھائی کی اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے ۔ ۱۹۵۵ میں لکھنؤ ہائی کورٹ کے جج مقرر کئے گئے ۔ وکالت کے پیشے سے سبکدوش ہوکر ملا نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا ۔ ۱۹۶۷ میں لکھنؤ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے پارلیمینٹ کے رکن منتخب کئے گئے ۔ ۱۹۷۲ میں راجیہ سبھا کے رکن منتخب کئے گئے ۔ ملا انجمن ترقی اردو ہند کے صدر بھی رہے ۔
ملا نے ابتدا میں انگریزی میں شاعری کی ، انگریزی ادب کا طالب ہونے کی وجہ سے ان کی نظر انگریزی ادبیات پر بہت گہری تھی لیکن وہ دھیرے دھیرے اردو کی طرف آگئے ، پھر لکھنؤ کے شعری وادبی ماحول نے بھی ان کی شاعرانہ شخصیت کو نکھارنے اور جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ شاعری میں ملا کا نظریہ بہت تعمیری اور اخلاقی تھا ۔ اقبال سے اثر پزیزی نے اسے اور مستحکم کیا ۔ سماج کو بہتر بنانے کی اس جد وجہد میں ملا اپنی شاعری ، نثر اور عملی زندگی کے ساتھ شامل تھے ۔ جوئے شیر ، کچھ ذرے کچھ تارے ، میری حدیث عمر گریزاں ، کرب آگہی ، جادۂ ملا ، ان کے شعری مجموعے ہیں ۔ انہوں نے نہرو کے مضامین کا ترجمہ بھی کیا ۔ ملا کو ان کی ادبی اور سماجی خدمات کے لئے کئی انعامات اور اعزازات سے بھی نوازا گیا ۔

۱۲ جون ۱۹۹۷ کو دہلی میں ملا کو انتقال ہوا ۔ 


 

موضوعات

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI