Aqeel Danish's Photo'

عقیل دانش

1940 | لندن, برطانیہ

میں بھی سچ کہتا ہوں اس جرم میں دنیا والو

میرے ہاتھوں میں بھی اک زہر کا پیالہ دے دو

اب بھی کچھ لوگ محبت پہ یقیں رکھتے ہیں

ہو جو ممکن تو انہیں دیس نکالا دے دو

فطرت کا یہ ستم بھی ہے دانشؔ عجیب چیز

سر کیسے کیسے کیسی کلاہوں میں رکھ دیئے