اشفاق شاہین کے اشعار
اتنی زمیں ہی چاہیے بس مجھ کو گاؤں میں
جا کر پڑا رہوں میں جہاں ماں کے پاؤں میں
ہم ترے ہجر میں یوں زرد ہوئے جاتے ہیں
لوگ تکتے ہیں تو ہمدرد ہوئے جاتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آتی کب ہے روز بلانا پڑتی ہے
نیند کی خاطر گولی کھانا پڑتی ہے
اکیلا آ رہا ہے یا انہیں بھی ساتھ لاتا ہے
ذرا پوچھو خبر تو لو دسمبر کیا بتاتا ہے
ارادے گرچہ لہروں کے بڑے صدمات والے ہیں
یہ دریا کو بتا دینا کہ ہم گجرات والے ہیں
میں ادھ مرا گلاب سر شاخ نیم جاں
ہاتھوں سے تو نے مجھ کو سنوارا تو میں گیا
میں کچی روشنائی سے بنے اک شہر جیسا ہوں
کسی کا اشک کافی ہے مجھے مسمار کرنے کو
عرصہ ہوا ہے ان سے ملاقات ہی نہیں
گجرات لگ رہا ہے کہ گجرات ہی نہیں
کسی کرب مسلسل کے کھلے اظہار جیسے ہیں
یہاں لوگوں کے چہرے بھی کسی اخبار جیسے ہیں