noImage

اشرف علی فغاں

1725/6 - 1772 | دلی, ہندوستان

۱۸ ویں صدی کے ممتاز شاعروں میں شامل ، میر تقی میر کے معاصر

۱۸ ویں صدی کے ممتاز شاعروں میں شامل ، میر تقی میر کے معاصر

تخلص : 'فغاں'

اے شیخ اگر کفر سے اسلام جدا ہے

پس چاہئے تسبیح میں زنار نہ ہوتا

میر تقی میرؔ اور محمد رفیع سوداؔ اپنے زمانہ میں شاعری کی سُپر پاور تھے ۔ ان لوگوں نے ایہام گوئی کی سلطنت کے زوال کے بعد زبان و بیان کے نئے علاقوں کو فتح کیا تھا۔ ان قد آور شخصیتوں کا کوئی مد مقابل  نہیں تھا لیکن کچھ دوسرے شعراء اپنے شعری اظہار کے لئے نئی وادیوں کی تلاش میں تھے ۔ان میں انعام اللہ خاں یقینؔ اور اشرف علی فغاںؔ پیش پیش تھے۔دونوں کا میدان عمل مضامین تازہ کی تلاش تھا۔یقین کی عمر نے وفا نہ کی لیکن وہ اپنے زمانہ میں خاصے مقبول اور ساتھ ہی متنازعہ بھی  تھے۔اشرف علی فغاںؔ کو حالات زمانہ نے دہلی سے،جو شمالی ہند میں ادب کا مرکز تھی، اکھاڑ کر بہت دور ایسے مقام پر ڈال دیا جہاں وہ اپنی داخلی طاقت کے بل پر زندہ تو ضرور رہے لیکن ان لوگوں کی طرح  پھل پھول نہیں سکے جن کو شاعری کے لئے لکھنؤ کی سازگار سرزمین مل گئی تھی۔ شاعری میں میرؔ و سوداؔ کا طوطی بولتا رہا اور اس کے بعد جراتؔ، انشاءؔ، مصحفیؔ اور ناسخؔ کے ڈنکے کچھ اس طرح بجے کہ فغاں ؔاور ان جیسے دوسرے شاعروں کو لوگوں نے تقریباً  بھلا ہی دیا۔ ان کا دیوان  پہلی بار 1950ء میں شائع ہو سکا۔تب تک مذاق زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ چکا تھا۔ سامعین و قارئین کے ذہنوں پر فانیؔ،فراقؔ،جوشؔ،اختر شیرانی، مجازؔ،فیضؔ اور جگر ؔراج کر رہے تھے۔فغاں کے دیوان کو بزرگوں کے تبرک سے زیادہ اہمیت نہیں ملی اور ان کی قدر و قیمت کا صحیح تعین ابھی تک باقی ہے۔فغاں ان شاعروں میں سے ایک ہیں جن کی اہمیت کا اعتراف سبھی تذکرہ نویسوں نے کیا ہے۔میر تقی میر ؔنے بھی ،جو بمشکل کسی کو خاطر میں لاتے  تھے،فغاں کا تذکرہ بھلائی کے ساتھ کیا ہے۔سودا ؔتو ان کی شاعری کے بڑی معترف تھے اور آزاد کے بقول ان کے شعر مزے لے لے کر پڑھتے تھے۔انھوں نے ان کے ایک شعر ۔۔۔" شکوہ تو کیوں کرے ہے مرے اشک سرخ کا*تیری کب آستیں مرے لوہو سے بھر گئی " کو اساس بنا کو ایسا لاجواب قطعہ لکھا کہ میرصاحب بھی واہ واہ کہہ اٹھے۔ شیخ ابراہیم ذوقؔ نے فغاںؔ کے دیوان کو اپنے ہاتھ سے نقل کیا تھا۔محمد حسین آزادؔ نے جب اس دیوان کو پڑھا تو ان کی آنکھیں روشن ہو گئیں اور آب حیات میں لکھا کہ فغاںؔ" فن شاعری کے اعتبار سے نہایت با اصول اور برجستہ تھے۔اور الفاظ کی بندش ان کی مشق سخن پر گواہی دیتی ہے۔۔۔ان کی طبیعت ایشیائی شاعری کے لئے نہایت موزوں تھی" اور عبدالسلام ندوی نے تو انھیں میر ؔو سوداؔ کا ہم پلہ قرار دے دیا۔
فغاں کے حالات زندگی کے بارے میں ہماری معلومات محدود ہیں۔ ان کی صحیح تاریخ پیدائش  بھی نہیں معلوم ہو سکی ہے لیکن اس بنیاد پر کہ وہ احمد بادشاہ کے رضاعی بھائی تھے،تخمینہ سے ان کی کا سن پیدائش 1728ء درج کیا گیا ہے۔ ان کے والد کا نام مرزا علی خاں نکتہ تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی شاعر تھے۔  بادشاہ کے رضاعی بھائی ہونے کے سوا شاہی خاندان سے ان کے رشتہ کی نوعیت معلوم نہیں۔لیکن ان کا شمار امراء میں تھا اور ان کو پنچ ہزاری منصب کے علاوہ بادشاہ کی طرف سے ظریف الملک کوکا خاں  کا خطاب بھی ملا ہوا تھا۔ فغاںؔ کی ظرافت اور بذلہ سنجی کا ذکر تمام تذکرہ نویسوں نے کیا ہے۔ شائد مزاج کی اسی افتاد نے ان سے ہجویں بھی لکھوائیں۔ خود کہتے تھے" میں دہلی سے عظیم آباد تک ظرافت اور بذلہ سنجی میں کسی سے نہیں ہارا سوائے اک گانے والی عورت سے۔ایک دن ایک مجلس میں بہت سے ظریف تھے اور میں سخن ہائے  لطیف و بذلہ ہائے ظریف سے حاضرین مجلس کو خوش کر رہا تھا اور گانے والیوں کو جو اس مجلس میں حاضر تھیں اور حاضر جوابی پر آمادہ تھیں ہر بات پر شرمندہ کر رہا تھا کہ اچانک اس گروہ کی اک عورت وہاں آئی۔جب لب فرش تک آئی تو چاہتی تھی کہ پیروں سے جوتیاں اتار کر فرش پر آئے لیکن اتفاقاً  ایک جوتی اس  کے دامن سے الجھ کر فرش پر آ پڑی۔میں نے بطور مزاح حاضرین مجلس کو مخاطب کر کے کہا  "دوستو دیکھو بی بی صاحبہ جب کسی مجلس میں جاتی ہیں تو اپنے جفت کو جدا نہیں کرتیں،ساتھ لاتی ہیں۔وہ شرمندہ تو ہوئی لیکن ہاتھ جوڑ کر کہا " بجا ہے۔ کنیز کا یہی حال ہے۔لیکن آپ جب مجلس میں رونق افروز ہوتے  ہیں تو آپ اپنے جفت کو خدمت گاروں اور خواصوں کے حوالہ کر کے آتے ہیں۔انصاف کیجئے کہ حق بجانب کون ہے"یہ جواب سن کر میں بہت خجل اور شرمسار ہوا اور مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا"۔ محمد حسین آزادؔ نے ایک اور لطیفہ لکھا ہے کہ فغاں نے عظیم آباد میں اک غزل کہی جس کا قافیہ لالیاں،جالیاں تھا لیکن اس غزل میں تالیاں کا قافیہ مبتذل سمجھ کر چھوڑ دیا تھا،دربار میں اک مسخرہ جگنو نام کا تھا۔اس نے کہا کہ نواب صاحب تالیاں کا قافیہ رہ گیا ۔فغاں اس کی بات کو ٹال گئے لیکن راجپ شتاب رائے نے کہا "نواب صاحب سنئے میاں جگنو کیا کہتے ہیں،تب فغاں نے فی البدیہ کہا "جگنو میاں کی دم جو چمکتی ہے رات کو**سب دیکھ دیکھ اس کو بجاتے ہیں تالیاں"۔ 
احمد شاہ بادشاہ  کے عہد حکومت میں فغاں دہلی میں عزت و آرام کی زندگی گزارتے رہے لیکن جب عماد الملک نے بادشاہ کو تخت سے  اتار کر ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیروا دیں تو فغاں کے لئے یہ دوہرا صدمہ تھا۔ان کو بادشاہ سے دلی محبت تھی۔ بادشاہ کی معزولی کے ساتھ ان کے مصاحب بھی فیوض سے محروم ہو گئے۔ ادھر سگے بھائی نےتمام  آبائی املاک پر  قبضہ کر لیا۔ کچھ عرصہ حالات کا مقابلہ کرنے کے بعد فغاں اپنے چچا ایرج خان کے پاس چلے گئے جو مرشدآباد میں اک اعلیٰ عہدہ پر فائز تھے۔ سفر میں وہ الہ آباد سے گزرے جو ان کو بالکل پسند نہیں آیا اور اس کی ہجو لکھی   " یہ وہ شہر جس کو کہیں ہیں پراگ* مرا بس چلے آج دوں اس کو آگ/جہاں تک تری ہے وہاں سیل ہے*نظر آئی خشکی تو کھپریل ہے/لکھوں خاک نقشہ میں اس شہر کا/کہ یہ تو ہے بیت الخلاء دہر کا" ۔ فغاں کا دل مرشدآباد میں بھی نہیں لگا اور وہ دہلی واپس آ گئے۔ لیکن وہاں کے حالات دن بہ دن خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے تھے۔اس بار انھوں نے اودھ کا رخ کیا۔ نواب شجاع الدولہ نے ان کی آو بھگت کی۔ نواب نے ایک دن مذاق ہی مذاق میں اک تپتا ہوا پیسہ ان کے ہاتھ پر رکھ دیا جس سے ان کو سخت تکلیف ہوئی۔اس کے بعد ان کا دل نواب کی طرف سے پھیکا پڑ گیا اور وہ عظیم آباد چلے گئے جہاں راجہ شتاب رائے نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنا مصاحب بنا کر اک جاگیر ان کو دے دی۔ فغاںؔ نے باقی زندگی فراغت کے ساتھ عظیم آباد میں گزاری۔ فغاںؔ نازک مزاج بھی بہت تھے۔اک بیان یہ بھی ہے کہ زندگی کے آخری ایام میں وہ راجہ صاحب مذکور  سے بھی خفا ہو گئے تھے اور انگریز افسروں کی عنایات حاصل کر لی تھیں۔راجہ  نے ایک دن طنزاً یا پھر اپنی سادگی میں ان سے پوچھ لیا تھا "نواب صاحب! نادر شاہ ملکہ زمانی کو کیونکر ساتھ لے گیا" فغاں کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور انھوں نے جل کر کہا "مہاراج اسی طرح جس طرح راون  سیتا کو اٹھا لے گیا تھا"۔ اور اس کے بعد دربار میں جانا چھوڑ دیا۔ فغاںؔ نے زندگی کا باقی حصہ عظیم آباد میں ہی گزارا اور 1773 ء میں وہیں ان کا انتقال ہوا۔ان کی قبر شیرشاہی مسجد کے قریب باون برج کے امام باڑے کے احاطہ میں ہے۔

شاعری فغاںؔ کے لئے پیشہ نہیں تھی۔ لیکن ابتدائے عمر سے ہی شاعری کا شوق تھا اور طبیعت ایسی موزوں پائی تھی کہ جلد ہی مشہور ہو گئے۔ان کی شاعری گداز کا آئینہ اور مشاقی کا ثبوت ہے۔زبان اتنی صاف ہے کہ اگر ان کے شعر کو دور حاضر کے کسی شاعر کا کلام کہہ کر سنا دیا جائے تو وہ شک نہیں کرے گا۔مثلاً " بٹھا گیا ہے کہاں یار بیوفا مجھ کو* کوئی اٹھا نہ سکا مثل نقش پا مجھ کو" یا "شب فراق میں اکثر میں آئینہ لے کر*یہ دیکھتا ہوں کہ آنکھوں میں خواب آتا ہے" اور "تو بھی حیرت میں رہا دیکھ کے آئینے کو*جو تجھے دیکھ کے حیراں نہ ہوا تھا سو ہوا" یا پھر "دست بردار نہیں خون شہیداں سے ہنوز* کب ہوئے سرخ حنا سے مرے دلدار کے ہاتھ" اور "عالم کو جلاتی ہے تری گرمی مجلس*مرتے ہم اگر سایۂ دیوار نہ ہوتا"۔ان سبھی اشعار میں زبان کی صفائی کے ساتھ مضمون کی جدت قابل توجہ ہے۔ میر تقی میرؔ کا یہ لاجواب شعر" شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں*عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے" سبھی نے سن رکھا ہے اسی زمین میں فغاںؔ کا شعر بھی سن لیجئے  "پاس رہا کیا جسے برباد دوں*خانہ خرابی کو بھی گھر چاہئے"( دوسرا مصرع  ذرا توجہ سے پڑھئے۔خانہ خرابی کو بھی اپنے لئے اک گھر کی ضرورت ہے)۔ قطعہ بند اشعار قدماء کے کلام کی اک خصوصیت رہی ہیں۔لیکن فغاںؔ نے اسے دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ برتا ہے۔ جدت فکر ،نئے مضامین کی تلاش اور زبان کی صفائی فغاںؔ کی وہ خصوصیات ہیں جو ان کو اپنے ہمعصروں سے ممتاز کرتی ہیں۔