اسماء اجمل کا تعارف
پیدائش : 21 Nov 1974
ڈاکٹر اسماء اجمل 21 نومبر 1974 کو ایک علمی، ادبی اور دینی خانوادے میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جس کی جڑیں علم و ادب میں گہری پیوست ہیں۔ پنجابی زبان کے اولین ناول نگار، میراں بخش منہاس مرحوم، آپ کی والدہ کے دادا تھے۔
آپ کے والد، رانا محمد اجمل خان، وفاقی سرکاری اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اور ادبی سرگرمیوں کے بھی روحِ رواں رہے۔ والدہ، بیگم فرحت حجازی، اگرچہ ایک گھریلو خاتون ہیں، لیکن انہوں نے تقریباً پچاس برس تک ناظرہ اور ترجمۂ قرآنِ کریم کی تعلیم دی۔ ان کا حج کا سفرنامہ "کرم کے موتی" کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر اسماء اجمل کو بچپن ہی سے لکھنے کا شوق تھا۔ جب ان کی تحریریں روزنامہ نوائے وقت کے صفحۂ خواتین میں شائع ہونا شروع ہوئیں تو بطور لکھاری ان کی پہچان مستحکم ہوئی۔ سنہ 2013 میں ان کے کالموں کا مجموعہ "میری آواز سنو" زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا، جسے خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔
ان کی دوسری کتاب "ہاشم اور باجرہ" ایک ناول ہے، جو پنجاب کے دیہاتی پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس ناول میں سادگی، بے ساختگی اور دل کو چھو لینے والے مکالمے شامل ہیں، جب کہ پنجاب کی دیہی زندگی کا گہرا شعور اسے مزید دلکش بناتا ہے۔ اپنی متنوع خوبیوں کے باعث یہ ناول قارئین کے لیے یقیناً باعثِ تسکین ہوگا۔