اظہر عباس

غزل 15

اشعار 10

ہنسی مذاق کی باتیں یہیں پہ ختم ہوئیں

اب اس کے بعد کہانی رلانے والی ہے

تو کہانی کے بدلتے ہوئے منظر کو سمجھ

خون روتے ہوئے کردار کی جانب مت دیکھ

جو رکاوٹ تھی ہماری راہ کی

راستہ نکلا اسی دیوار سے

اکیلا میں ہی نہیں جا رہا ہوں بستی سے

یہ روشنی بھی مرے ساتھ جانے والی ہے

اپنے ویرانے کا نقصان نہیں چاہتا میں

یعنی اب دوسرا انسان نہیں چاہتا میں

کتاب 1

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI