Azhar Iqbal's Photo'

اظہر اقبال

1978 | میرٹھ, ہندوستان

ہندوستان کی نوجوان نسل کے مشہور شاعر

ہندوستان کی نوجوان نسل کے مشہور شاعر

گھٹن سی ہونے لگی اس کے پاس جاتے ہوئے

میں خود سے روٹھ گیا ہوں اسے مناتے ہوئے

نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد

روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد

یہ کیفیت ہے میری جان اب تجھے کھو کر

کہ ہم نے خود کو بھی پایا نہیں بہت دن سے

تمہارے آنے کی امید بر نہیں آتی

میں راکھ ہونے لگا ہوں دئیے جلاتے ہوئے

ایک مدت سے ہیں سفر میں ہم

گھر میں رہ کر بھی جیسے بے گھر سے

نہ جانے ختم ہوئی کب ہماری آزادی

تعلقات کی پابندیاں نبھاتے ہوئے

ہر ایک شخص یہاں محو خواب لگتا ہے

کسی نے ہم کو جگایا نہیں بہت دن سے

ہے اب بھی بستر جاں پر ترے بدن کی شکن

میں خود ہی مٹنے لگا ہوں اسے مٹاتے ہوئے

پھر اس کے بعد منایا نہ جشن خوشبو کا

لہو میں ڈوبی تھی فصل بہار کیا کرتے

ہر ایک سمت یہاں وحشتوں کا مسکن ہے

جنوں کے واسطے صحرا و آشیانہ کیا