364
Favorite

باعتبار

ہے کامیابیٔ مرداں میں ہاتھ عورت کا

مگر تو ایک ہی عورت پہ انحصار نہ کر

وہ تیس سال سے ہے فقط بیس سال کی

چہرے پہ آ چکی ہے بزرگی جمال کی

میں ایک بوری میں لایا ہوں بھر کے مونگ پھلی

کسی کے ساتھ دسمبر کی رات کاٹنی ہے

دے رہے ہیں اس لیے جنگل میں دھرنا جانور

ایک چوہے کو رہائش کے لیے بل چاہیئے

وے بالوں میں کلر لگوا چکا ہے

یہ دھوکہ پانچ سو میں کھا چکا ہے

کودے ہیں اس کے صحن میں دو چار شیر دل

ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے

کتنی مزاحیہ ہے یہ بوتل کے جن کی بات

آقا اب انقلاب ہے دو چار دن کی بات

عشق میں یہ تفرقہ بازی بہت معیوب ہے

پیار کو شیعہ وہابی اور سنی مت سمجھ

ایسی خواہش کو سمجھتا ہوں میں بالکل نیچرل

ڈاکٹر کو شہر کا ہر مرد و زن ال چاہئے

مورخ لکھ نہ دیں سقراط مجھ کو

میں لسی کا پیالہ پی رہا ہوں

وہ ساڑی جیولری کے تحائف پہ تھی بضد

ہم سو روپے کی شال سے آگے نہیں گئے

نہ یہ قانون کام آیا تھا رانجھے کے ذرا سا بھی

اسی کو بھینس ملتی ہے ہو جس کے ہاتھ میں لاٹھی

وہ افطاری سے پہلے چکھتے چکھتے

کهجوریں اور پکوڑے کھا چکا ہے

ایسے بندوں کو جانتا ہوں میں

جن کا واحد علاج مالش ہے

کیبل پہ ایک شیف سے جلدی میں سیکھ کر

لائی وہ شملہ مرچ کا حلوہ مرے لیے

دس بارہ غزلیات جو رکھتا ہے جیب میں

بزم سخن میں ہے وہ نشانی وبال کی

تھکا ہارا نکل کر گھر سے اپنے

وہ پیر آفس میں سونے جا چکا ہے

یہ دیا میسج ٹوئیٹر پر فسادی شخص نے

اس کو جلتی کے لیے فی الفور آئل چاہیئے

بیگم سے کہہ رہا تھا یہ کوئی خلا نورد

بیٹھی ہوئی ہے چاند پہ ''گڑیا'' مرے لیے

دو خط بنام زوجہ و جاناں لکھے مگر

دونوں خطوں کا اس سے لفافہ بدل گیا